سی آئی اے خواجہ آصف کی شکل میں :
سی آئی اے خواجہ آصف کی شکل میں :
خواجہ آصف صاحب اسمبلی میں کہتا ہے کہ 80 کے دہائی میں سی آئی اے کے ایماء پر ہمارا تعلیمی نصاب تبدیل کیا گیا ، اور دینی نصاب کو تبدیل کرکے مذہب کو استعمال کیا گیا ۔ اور آج بھی اسلام آباد میں ہزاروں مدارس ناجائز و غیر قانونی طور پر بنے ہوئے ہیں ۔
محترم عرض ہے آپ کو نہ احساس ہے اور نہ آپ سنجیدہ ہے ، آپ محض دوسروں کے اشاروں پر ناچتے ہیں حتی کے خود الفاظ کا چناؤ بھی آپ کے اندر نہیں ، جس کا مشاہدہ ابھی حالیہ پاک و افغان میں ہم نے بخوبی کرلیا ۔ ایک وزیر دفاع کو جنگ کی حالت میں کس طرح رویہ رکھنا چاہیے انداز گفتگو کس طرح ہونا چاہیے ، وہ جناب میں مفقود تھا ۔
اور ابھی اسمبلی میں جناب لب کشائی کرتا ہے کہ 80 کے دہائی میں سی آئی اے کی بدولت ہمارا تعلیمی نصاب بھی تبدیل کیا گیا اور مذہب کے نام پر انتہا پسندی کو عام کیا گیا ۔ محترم یہ 80 کے دہائی کی بات نہیں اس سے پہلے 60 کے دہائی کے بعد تقریبا پاکستان سی آئی اے کا کالونی بن چکا ہے ۔ آپ آج جس عہدہ پر فائز ہیں یہ بھی سی آئی اے کی مرہون منت ہے ۔
80 کے دہائی میں سی آئی اے نے مذہب کو اگر استعمال کیا تو سبب آپ تھے ۔ آپ ہی کی بدولت مذہب استعمال ہوا ۔ سی آئی اے کے کہنے پر مذہبی تحاریک کو پاکستان کی جانب سے اسلحہ جات اور پناہ گاہ ملے ۔ آپ ہی کے سبب سے مذہبی تحریک تشکیل دے کر ، یہاں ٹریننگ دی جاتی اور وہاں لڑنے کے لئے بھیجا جاتا ۔ جس کی مثالیں سابق سوویت یونین جنرل محموت گارییف نے اپنی کتاب " میری آخری جنگ " میں دیا ہے ۔
آج بھی اگر پاک و افغان جنگ کا آغاز کیا گیا ہے ، تو سی آئی اے کی بدولت ۔ آج بھی اگر حضور ترکیہ یا قطر جاکر مذاکرات ناکام بنانے کی کوشش کرتا ہے تو سی آئی اے کی بدولت ۔ آج بھی اگر آنجناب کو بیان کا ٹاسک دیا جاتا ہے وہ بھی سی آئی اے کی جانب سے۔ آج بھی حضور سی آئی اے کے کہنے پر اپنے مسلمان بھائیوں سے لڑ رہا ہے ۔ ان کو کہا احساس لارڈ میکالے کے قول " لڑاؤ اور حکومت کرو" پر عمل کرتے ہوئے مسلمانوں کا استعمال کرو ،مذہب کو استعمال کرو اور اپنی حکومت کرتے رہو ۔ آج حضور کو تیس سال بعد یاد آیا کہ یہ سب سی آئی اے کے کہنے پر کیا گیا ۔ سبحان اللہ
کیا عجیب بات ہے آج ان صاحب کو پتہ چلا ۔ 80 کے دہائی تو دور کی بات آج بھی تمہیں سی آئی اے چلا رہا ہے ۔ ان کے ایماء پر تم جنگ لڑتے بھی ہو تو اور ختم کرتے بھی ہو ۔ یہی وجہ سے سی آئی اے نہیں چاہتا پاک و افغان جنگ ختم ہو تبھی تو راہ ہموار کرنے کے لئے حضور کبھی ترکیہ میں مذاکرات کی ناکامی میں تلا ہے تو کبھی قطر میں ۔ اور حضور کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ جب تک سی آئی اے چاہے گا یہ جنگ جاری رہے گی اور مذاکرات یوں ہی ناکام ہوتے جائیں گے ۔ اور یہ منظر ساری دنیا دیکھ رہی ہیں ۔ کس طرح آپ لوٹے کی طرح استعمال ہوتے جارہے ہیں ۔ یا تو ہوش کے ناخن لے کر اپنے مسلمان بھائیوں کے خون سے رک جاؤگے یا پھر یوں ہی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے اپنے ہی مسلم کے خون بہاتے جاؤگے اور یوں ہی دست و گریباں اور پستی و تزلزل کی جانب گامزن ہوتے جاؤگے ۔
محمد عدنان جاوید حنفی
کوئٹہ، بلوچستان
12 نومبر 2025
ء

Comments
Post a Comment
Warning ⚠️
Don't use bad words.