Posts

Showing posts from January, 2026

اقرار الحسن کی تحریک اور بلوچستانی عوام

Image
 اقرار الحسن کی تحریک اور بلوچستانی عوام 15 جنوری کو اقرار الحسن صاحب اپنی سیاسی پارٹی کا اعلان کرے گا ، اور اس کا آغاز اور مقصد ایک خوبصورت دلکش اور مائل کرنے والے نعرے سے کررہا ہے کہ ہماری پارٹی میں کسی قسم کا کوئی لیڈر شپ نہیں بلکہ سب برابر اور ہمارا مقصد پاکستان میں نظام نافذ کرنا ہے کہ ایک عام پاکستانی بھی وزیر اعظم بن سکے ، صدر بن سکے ، وزیر اعلی بن سکے ، نسلی اور موروثی نظام کا خاتمہ ۔  گویا زبان پر خدمتِ خلق، دل میں خدمتِ نفس؛ آغاز عوام کے نام پر، اختتام اپنے نام پر۔ اگر تاریخ کے دریچوں کو جانچا جائے اور اوراق کے ورق گردانی کی جائے تو ایسی تنظیمیں اور پارٹیاں بہت سے ایسے ملیں گے جو لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے ایک اچھے آواز اور نعرہ متعارف کرتے ۔  دور نہ جائیے ماضی قریب میں عمران خان صاحب نے وزارت کے لئے عوام کو کتنا بے وقوف بنایا یہ تو شاید اب ان کے اپنے قریبی دوست اور کارکن بھی پہچان گئے ہوں گے۔ نیا پاکستان اور نوجوانوں کو نوکریاں جیسے نعروں کے لالچ دے کر اقتدار میں آنے کے بعد نوجوانوں نے مجبور ہوکر کہا نہیں چاہیے نیا پاکستان اور نوکری بس وہی پرانا پاکستان...

ڈاکومنٹری کا جواب یا گلوخلاصی ؟

Image
ڈاکومنٹری کا جواب یا گلوخلاصی ؟ گزشتہ ہفتہ رفتار چینل والوں نے مولانا فضل الرحمن صاحب کے کردار پر ایک ڈاکومنٹری بنائی ، جس میں انہوں نے مولانا صاحب کے منفی کردار پیش کیا ۔  اس کے جواب پر تبصرہ کرنے سے قبل میں یہ بات پیش کرنا چاہتا ہوں کہ مولانا فضل الرحمان صاحب ایک سیاسی لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ مدبر سیاستدان ہے ۔ اور ایک سیاسی لیڈر ہونے کے ناطے اگر انتظامی امور میں ان سے کچھ غلطی ہو جائے یا کوئی خامی پیش آجائے تو میرے خیال سے بڑے بڑے کارناموں کے سامنے چھوٹے چھوٹے غلطیوں کو دیکھا نہیں جاتا ۔ ان کی اہمیت نہیں رہتی ، رفتار چینل والے عموما شخصیات و دیگر چیزوں کا منفی کردار منظر عام پر لاتے ہیں ۔ اگر یہ ان کا موضوع ہے تو مجھے تو کوئی اعتراض نہیں مگر میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ فرد واحد کی غلطی کو افراد پر منطبق نہ کرے ، بس یہ ایک چیز اگر رفتار والے سمجھ جائے شاید بہت سی چیزوں میں ان کو بات سمجھ آجائے ۔ پچھلے سال بھی مدارس کے خلاف انہوں نے ایک ڈاکومنٹری بنائی تھی ، جب میں کراچی میں تھا سوچا تھا اس کا جواب یا ویڈیوں کی صورت میں دوں یا تحریر میں مگر فرصت نہیں ملی ۔ وہاں بھی انہوں نے یہی ک...