ڈاکومنٹری کا جواب یا گلوخلاصی ؟
ڈاکومنٹری کا جواب یا گلوخلاصی ؟
گزشتہ ہفتہ رفتار چینل والوں نے مولانا فضل الرحمن صاحب کے کردار پر ایک ڈاکومنٹری بنائی ، جس میں انہوں نے مولانا صاحب کے منفی کردار پیش کیا ۔
اس کے جواب پر تبصرہ کرنے سے قبل میں یہ بات پیش کرنا چاہتا ہوں کہ مولانا فضل الرحمان صاحب ایک سیاسی لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ مدبر سیاستدان ہے ۔ اور ایک سیاسی لیڈر ہونے کے ناطے اگر انتظامی امور میں ان سے کچھ غلطی ہو جائے یا کوئی خامی پیش آجائے تو میرے خیال سے بڑے بڑے کارناموں کے سامنے چھوٹے چھوٹے غلطیوں کو دیکھا نہیں جاتا ۔ ان کی اہمیت نہیں رہتی ، رفتار چینل والے عموما شخصیات و دیگر چیزوں کا منفی کردار منظر عام پر لاتے ہیں ۔ اگر یہ ان کا موضوع ہے تو مجھے تو کوئی اعتراض نہیں مگر میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ فرد واحد کی غلطی کو افراد پر منطبق نہ کرے ، بس یہ ایک چیز اگر رفتار والے سمجھ جائے شاید بہت سی چیزوں میں ان کو بات سمجھ آجائے ۔ پچھلے سال بھی مدارس کے خلاف انہوں نے ایک ڈاکومنٹری بنائی تھی ، جب میں کراچی میں تھا سوچا تھا اس کا جواب یا ویڈیوں کی صورت میں دوں یا تحریر میں مگر فرصت نہیں ملی ۔ وہاں بھی انہوں نے یہی کیا تھا کہ فرد واحد کے جرم کو افراد پر منطبق کیا تھا جو اصولا و اخلاقا و شرعاً بالکل درست نہیں ۔ یہاں اس ڈاکومنٹری میں بھی مولانا صاحب کے منفی پہلوئوں پر روشنی ڈالی ہے ، مولانا صاحب کوئی پیغمبر نہیں جو معصوم عن الخطاء ہو ممکن ہے ان سے غلطیاں ہوئی ہے ، خواہ جماعتی سطح پر ہو یا ملکی سطح پر ، کیونکہ اگر ان کی ذمہ داریاں اور منصب کو دیکھا جائے تو اس جیسے ذمہ داریاں اور منصب پر شاید اس جیسے غلطیوں کو غلطی تصور نہ کیا جائے ۔ جہاں انہوں نے بڑے بڑے کارنامے سر انجام دئیے ہیں وہاں اگر کوئی غلطی کرے تو ان برے کارناموں کے بدلے غلطی کو عموما نظر انداز کیا جاتا ہے ۔
بہر حال میں اس ڈاکومنٹری اور اس کے جواب پر تبصرہ کرنا چاہتا ہوں ۔ ڈاکومنٹری میں کچھ ٹھوس باتیں پیش کیا گیا ہے ، اس سے قبل بھی جمیعت علماء اسلام کے انتظامی امور اور مولانا صاحب کے کردار پر ایک کتاب منظر عام پر آئی تھی جو " نشیب و فراز " کے نام سے موسوم ہے ۔ مولانا اسماعیل الحسنی صاحب نے لکھی ہے ۔ موصوف سے بالمشافہ ملاقات تو نہیں ہوئی البتہ کال اور میسج پر کبھی کبھار گفتگو ہوتی ہے ۔ تقریبا 3 سال قبل اس کو مطالعہ کیا اور سوچا کہ جمیعت کی طرف سے اس کا جواب لکھا جائے گا ، مگر اب تک کوئی علمی و تحقیقی جواب منظر عام پر نہیں آئی ۔ اور اب جب ڈاکومنٹری دیکھا تو اس میں بھی کچھ ٹھوس باتوں کو اجاگر کیا گیا ہے ۔ اور سوچ رہا تھا کہ شاید اس کا کوئی تحقیقی اور الزامی جواب آجائے گا ۔ اور اس دفعہ ماشاءاللہ سوچ صحیح نکلا اور جواب آگیا ۔
زوم میڈیا کی جانب سے اس کا جواب نوفل ربانی نامی ایک شخص نے دیا ہے ، مگر وہ بھی سرسری جواب اگر میں کہوں گلو خلاصی کی ہے تو شاید بجا ہوگا ۔ کیونکہ ٹھوس اور اہم باتوں کا جواب اس میں شامل نہیں ، سوائے کچھ کے ۔ اگر رفتار والوں کے اعتراضات اور سوالات اہم ہے تو اس کے جوابات بھی اہم ہونا چاہیے تھا جو کہ نہیں ہے ۔
جمیعت علماء اسلام کا میڈیا پر الگ پلیٹ فارم ہے جو ڈیجیٹل طریقے سے جماعت کے لیے کام کررہے ، ان کا کام محض اتنا ہے کہ وہ مولانا کی تصاویر شئیر کرے اور جلسہ و جلوس کی تصاویر اور ویڈیوز میڈیا پر لائے ۔ اور انجینئرز ضیاء الرحمن ، برادر مولانا فضل الرحمن صاحب ، اس کے چیف ایگزیکٹو ہے غالبا ۔ سوچا تھا وہ ایک ٹیم تیار کرکے اس کے جواب دینے کی کوشش کرے گا مگر انہوں نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ " اس ڈاکومنٹری کے اصل کردار اور اسکرپٹ رائٹر کون ہے وہ ہم جانتے ہیں " یہ بات اگر کوئی کارکن کرے تو اس کی طرف سے یہ جواب سمجھا جائے تو صحیح ہے ، مگر انجینئر صاحب کو چاہیے تھا کہ بجائے اسکرپٹ رائٹر کو تلاش کرنے کے وہ اس کے جواب دینے کی کوشش کرتا یا کم از کم اس کے لیے کسی کو تیار کرتا ۔ کیونکہ اس جیسے اعتراضات اور ٹھوس باتوں کا جواب ضروری ہے ، ایک کارکن کو حقائق جان کر جماعت میں رہنا چاہیے نہ کہ اندھے مقلد بننا چاہیے ۔
اب تک تو کوئی تحقیقی جواب تو نہیں دیا گیا ، نشیب و فراز کی طرح یہاں بھی یہی امید کریں گے کہ شاید مستقبل میں کوئی جواب دے ۔
محمد عدنان جاوید حنفی
کوئٹہ بلوچستان
بروز جمعہ / 2
جنوری 2026ء

Comments
Post a Comment
Warning ⚠️
Don't use bad words.