پاک و افغان جنگ میں مرکزی کردار کس کا؟ مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے ؟

 پاک و افغان جنگ میں مرکزی کردار کس کا؟ 

مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے ؟

حقائق و تجزیہ ۔












نوٹ : میری تحریر ریاست مخالف ہر گز نہیں اور نہ اسے اس پر محمول کرے ، چونکہ دو مسلم قوم کی جنگ ہے ، اور یہ جنگ کسی اور کے اشاروں پر جاری ہے ، اس لئے عوام کے سامنے حقائق پیش کرنا ناگزیر ہے ۔ 


کیا یہ محض اتفاق ہے کہ آئے روز پاکستان امریکہ و دیگر ممالک جاکر ٹرمپ کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا کر انہیں نوبل پرائز کے لئے پیش کرتا ہے ۔ اور ابھی حال ہی میں مصر میں غزہ امن معاہدہ کانفرنس میں ٹرمپ جنرل عاصم منیر کو اپنے پسندیدہ سپہ سالار کہہ کر ان کی کمی محسوس کرتا ہے ، اور یہ بات تمام ممالک کے وزراء کے سامنے کرتا ہے ۔ 

یہ سب کیونکر ہوا ؟ ذرا میں آپ کو آج سے تقریبا ایک مہینے پہلے کی حالت کی طرف لے جاتا ہوں ۔ آج سے ایک مہینہ قبل ٹرمپ نے دھمکی آمیز لہجہ میں افغانستان سے بلگرام ائیر بیس لینے کا مطالبہ کیا ۔ جس پر افغانستان نے نہ صرف انکار کیا بلکہ انتہائی سخت لہجہ میں یہ کہہ کر ٹرمپ کی دھمکی کو جوتے کے نوک پر رکھا کہ بلگرام ائیر بیس کا تمہیں ایک انچ بھی نہیں ملے گا ، چاہے جو بھی کرنا ہے کرو ۔ 


اس کے بعد ٹرمپ بالکل خاموش رہا اور پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ان کی محبت کافی زیادہ ہونے لگی ۔ جو ڈھکی چھپی بات نہیں میڈیا پر ہم دیکھ رہے ہیں ۔

ادھر افغانستان کے وزیر خارجہ مولانا امیر خان متقی انڈیا کے دورہ پر ہوتا ہے ،پاکستان کی جانب سے افغانستان کے شہر کابل پر ڈرون حملہ کیا جاتا ہے ، اور اس کی بنیاد تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر مفتی نور ولی محسود کو بتایا جاتا کہ ان کے زیر کمان طالبان پاکستانی آرمی پر حملہ کیا جارہا ہیں ۔ 

مگر یہ عجیب بات ہے کہ ہندوستان اگر پاکستان پر حملہ کرے اور بنیاد دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو بنائے پاکستان اسے غلط قرار دیتا ہے ، جبکہ پاکستان خود دہشگردوں کے اڈوں پر حملہ کو درست قرار دے رہا ہے ۔ 

اور پھر یہاں سے پاک افغان کشیدگی شروع ہوا جو اب تک جاری ہے ۔ مگر سوال یہ ہوتا ہے کہ پاکستان تو اب تک کبھی کسی ملک پر حملے کا پہل نہیں کیا ہے ، یہاں کیسے دوسرے ملک پر حملہ کیا ۔ اور پھر ایسے ملک جو اب آزاد ہوا ہے ، اور یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ کوئی ملک جنگ زدہ ہو اور اس کے بعد اگر آزاد ہو تو اس کے پاس نہ جوہری طاقت ہوتی ہے اور نہ زیادہ لڑنے کے اسباب ۔ اور پھر وہ مسلم ملک ہے حالت جنگ میں جس کی مدد پاکستان نے بہت زیادہ کیا ہے ۔ ایسے مسلم ملک پر پاکستان کا حملہ یقینا سمجھ سے بالا تر ہے ، اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کسی دباؤ میں آکر یہ حملہ کررہا ہے ، بالفاظ دیگر کسی اور کے کہنے پر ۔

اگر پاکستان کو دہشگردی سے نمٹنا تھا ، تو اس سے پہلے بھی نمٹ سکتا تھا ، کیونکہ تحریک طالبان ابھی نہیں بنی ۔ بلکہ نائن الیون کے بعد یہ سلسلہ جاری ہے ، اور مزے کی بات یہ ہے کہ جب پاکستان القاعدہ جیسے کالعدم تنظیم کو دہشتگرد قرار دیا تھا ، اس کے بانی اسامہ بن لادن کو پاکستان ہی میں مارا گیا۔ اور یہ معمہ آج تک معمہ ہی رہا کہ اسامہ افغانستان سے پاکستان کیسے آیا اور کس نے لایا ۔اور 2007 کے بعد تحریک طالبان پاکستان میں مزید تیزی سے متحرک ہوا ۔ جو اب تک ہے ۔ 

اور پاکستان کے مشکوک پالیسیاں بھی بتاتی ہیں کہ پاکستان یہ حملہ کسی اور کے کہنے پر کررہا ہے ۔ کیونکہ غزہ میں جب اسرائیل ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہا تھا ، وہ سب امریکہ کے کہنے پر اور امریکہ کے اسلحہ سے کررہا تھا یہ بات ٹرمپ خود کہتا ہے کہ نیتن یاہو مجھ سے عجیب عجیب اسلحہ کا مطالبہ کرتا ، اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف ٹرمپ کو کہتا ہے کہ آپ سے بڑھ کر کوئی امن پسند نہیں آپ ہی نوبل امن انعام کے مستحق ہے ، گویا شہباز شریف سب سے بڑے قاتل کو نوبل امن انعام کے مستحق قرار دے رہا ہے ۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں شہباز شریف کے اس تقریر اور مؤقف سے کیا پاکستانی خوش ہیں ؟ کوئی ایک پاکستانی کا نام بتاؤ جو اس موقف سے راضی ہو ۔ یہ سراسر پاکستان کے مؤقف سے ہٹ کر الگ مؤقف اختیار کیا ہے جسے شہباز شریف کی ذاتی رائے کہا جاسکتا ہے ۔ 

بھارت نے جب پاکستان پر حملہ کیا تو ، پاکستانی عوام کی جانب سے پاکستان سے جوابی کاروائی کا مطالبہ انتہائی زور سے کیا جارہا تھا ، اور یوں لگ رہا تھا کہ پاکستان جوابی حملہ کرنے کو تیار نہیں ، مگر عوام کی پرزور آواز پر جوابی کاروائی کی ۔ اور اس کے بعد ٹرمپ فورا مداخلت کرتے ہوئے جنگ بندی کرواتا ہے ۔ 

بعد ازاں اںڈیا کا ٹرمپ سے قیل و قال ہوتا ہے ۔ اور ٹرمپ کی جانب سے انڈیا پر وقتا فوقتاً ٹیرف عائد کیا جاتا ہے ۔ گویا امریکہ کا انڈیا سے تعلقات صحیح نہیں رہے ۔ 

اور اب جب پاک و افغان جنگ چل رہی ہے تو تو ٹرمپ کہتا ہے مجھے اطلاع ملی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی جنگ ہوگئی ہے ، میں اس معاملہ کو دیکھتا ہوں کہ ہوا کیا ہے ۔

اس کے بعد اب تک ٹرمپ کی جانب سے کوئی اقدام سامنے نہیں آیا ۔ یہ سب اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ جنگ دو مسلمانوں کے درمیان کروانے والا امریکہ کے صدر ٹرمپ ہے ، جس کا مقصد صرف اور صرف بلگرام ائیر بیس و دیگر مفادات ہیں ۔

بلگرام ائیر بیس چین کے اسلحہ خانہ جہاں چین کے اسلحہ وغیرہ ہوتے ہیں اس سے قریب ہے ۔ اور اسی لئے چین کو سمجھ آگیا کہ امریکہ پاکستان کے ذریعے ائیر بیس پر کنڑول چاہتا ہے۔ اس لئے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر خدشہ ظاہر کیا ، جس پر پاکستان نے انہیں یقین دہانی کروائی کہ پاک و امریکہ تعلقات سے چین پر کوئی برے اثرات نہیں ہوں گے۔  

افغانستان کی جانب سے بارہا جنگ ختم کرنے کی پیشکش کیا گیا ہے ، یوں لگ رہا ہے پاکستان اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں ۔ اور ڈی جی آئی ایس پی آر چوہدری احمد نے پشاور میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کو بھی دہرایا کہ کیا ہر چیز کا حال مذاکرہ اور بات چیت ہے ۔ اگر ہر چیز کا حل بات چیت ہے تو پھر جنگ بدر کا کیا جواب ہوگا ، غزوات کا کیا جواب ہوگا ۔ 

یعنی کے پہلے سے راہ ہموار کیا گیا تھا کہ جنگ کرنی ہے اور روکنا نہیں ۔

اور پھر یہ عجیب پالیسی ہے ایک ملک بیک وقت دو ملکوں سے لڑائی کررہا ہے ، خود پاکستان بحران کا شکار ہے ، بلوچستان کے بارے میں خود حکومت کے اراکین کہتے ہیں کہ حکومت پاکستان کا بلوچستان میں کوئی رٹ نہیں ، بلوچستان پر مسلح تنظیم کا راج ہے ۔ آئے روز روڈوں پر ناکہ بندی کرکے پولیس کے چیک پوسٹوں پر قبضہ کر کے حکومت کو چیلنج کرتے ہیں اور سر عام ویڈیوز میڈیا پر دیتے ہیں ۔ اس صورت حال میں بھلا پاکستان سے کون توقع کرسکتا تھا کہ وہ دو ملکوں سے بیک وقت لڑے گا ، تاریخ میں ایسا نہیں ہوا ہے ۔ پہلی مرتبہ یہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ اس کا صاف مطلب پیچھے کسی کا ہاتھ ہے ۔ 

غرض امریکہ پاکستان کو استعمال کرکے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے ، خود بیس سال سے لڑا ، جس کے بعد اب دوبارہ لڑنے کا متحمل نہیں ۔ مگر اپنے مفاد کے لئے مسلم ممالک کو لڑاکر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے ، اور پاک و افغان جنگ میں مرکزی کردار اس کا ہے ۔ 

اس لئے لڑانے والا جب کفار ہو تو مسلمان کو چاہیے کہ وہ جنگ صفین اور جنگ جمل یاد کر کے دونوں کو حق بجانب سمجھ کر صلح کی کوشش کرے ۔ 


محمد عدنان جاوید حنفی 

15/10/2025

کو

ئٹہ بلوچستان 

Comments

Popular posts from this blog

ڈاکومنٹری کا جواب یا گلوخلاصی ؟