قضیہ لال مسجد اور مفتی عبد الرحیم صاحب ، حقائق و تجزیہ
آج 11 اکتوبر 2025 بروز ہفتہ ہے ، ملک پاکستان و دیگر ممالک میں اہم واقعات رونما ہورہے ہیں ، مگر بدقسمتی سے عرصہ دراز سے ڈائری لکھنا ترک کیا ہوں ، دیگر مصروفیات کے ساتھ ساتھ " حقانیت قرآن " کی تصنیف میں مشغولیت اور درسی کتب کے مطالعہ حالات پر لکھنے کی اجازت نہیں دیتا ، پہلی فرصت میں وقت بچا کر حقانیت قرآن کو دیتا ہوں ، اس لئے حالات پر لکھنے کا وقت میسر نہیں ہوتا ۔
آج جب اہم مسئلہ ملکی سطح پر موضوع سخن بن چکا ہے ، جس کا تعلق برین واشنگ کے ساتھ ساتھ حقائق و پروپیگنڈا سے بھی ہے ، اس لئے قلم کا رخ اس جانب کررہا ہوں ۔
غالبا 2006 کے اواخر میں چچا جان نے ایک کمپیوٹر خریدا ، اور محل میں یہ تیسرا کمپیوٹر تھا جو صرف ہمارے گھر میں موجود تھا ، اس سے ماقبل ماموں اور ایک رشتہِ دار کے گھر میں تھا ۔ اور چونکہ محلہ کے مسجد کا امام والد مرحوم تھے اس لئے دین کے اعتبار سے کوئی مسئلہ پیش آتا تو محلہ والے اکثر والد مرحوم سے پوچھتے اور ویڈیوز کمپیوٹر میں دیکھتے ۔
ایک دن چچا نے بازار سے دو سی ڈی لائی ، دونوں مولانا ضیاء الرحمن فاروقی شہید رح کی تقریر تھے ، ایک دھوبی گھاٹ کی ، اور دوسری اوکاڑہ کی جو مولانا ایثار القاسمی کی شہادت کے مناسبت سے جلسہ منعقد ہوا تھا ، جس میں فاروقی صاحب نے سنی و شیعہ کی بنیادی اختلاف کو موضوع سخن بنا کر بیان کیا ، بچپن کے جذبات تھے تقریر کو کئی مرتبہ سننے کے بعد مجھے اس کے کچھ حصہ زبانی یاد ہوگئی ، جو میں اکثر اکیلے کمرے میں بیان کر کے لطف اندوز ہوتا ۔
تو اس کے بعد میں نے چچا سے کہا لال مسجد پر حملہ ہوا ہے ، اس کی سی ڈی بھی لاؤ ہم دیکھیں گے ، کیسا حملہ ہوا ہے ۔ یہ بات مجھے اب یاد نہیں کہ لال مسجد کی ویڈیوں سی ڈی کے ذریعہ ہم نے دیکھا یا پھر کہی سے ملا ، بہر حال ایک ویڈیوں تھا ، جو لال مسجد کے حوالے سے بنایا گیا تھا ، جس میں علامہ اقبال کے اشعار بھی تھے اور ساتھ میں کچھ طالبات کو دیکھائی دے رہی تھی جس میں وہ ڈنڈے اٹھا کر حکومت کے خلاف نعرے لگا رہی تھی ۔ اور اس ویڈیوں میں بار بار اس بات کو دوہرائی جارہی تھی کہ جامعہ حفصہ کے ننھے طالبات کو انتہائی بے دردی اور بیہمانہ انداز سے شہید کیا گیا ، غرض انتہائی جذباتی الفاظ و عکس بندی کی گئی تھی ، جس سے یقینا ہر مسلمان کی جذبات مجروح ہوتے اور رونگھٹے کھڑے ہوتے کہ یا خدا یہ کیسے حملہ ہوا ہے ، اس پر بالکل خاموشی اختیار نہیں کرنی چاہیے ۔
اس کے بعد سانحہ لال مسجد کے حوالے سے ایک رسالہ بھی دیکھا ، یہ دور میرا حفظ کا دور تھا جب میں قرآن کریم کو حفظ یاد کرنے میں مشغول تھا ۔ مگر اس رسالہ میں کیا لکھا تھا یہ یاد نہیں ۔
لیکن ویڈیوں میں و دیگر اخبارات و ذرائع میں کسی شہید طالبہ یا ان کے والد یا کوئی نشان یا جنازہ وغیرہ نہیں دکھایا گیا۔
بعد ازاں یہ مسئلہ ختم ہوا ، اور آپریشن لال مسجد کو ایک ظلم اور تشدد کا نام دیا جاتا ، اور برین واشنگ کے طور پر استعمال ہوتا اور ریاست کے خلاف اسے استعمال کیا جاتا ۔ حال ہی میں تقریبا 18 سال بعد جامعۃ الرشید کے مہتمم اور الغزالی یونیورسٹی کے چانسلر مفتی عبد الرحیم صاحب نے اس مسئلہ کو دوبارہ روح بخشی ، اور میڈیا پر آکر یہ دعوی کیا کہ لال مسجد میں سوائے غازی عبد الرشید اور ان کے والد کے کوئی اور شہید نہیں ہوا ، جتنے شہداء پیش کئے جاتے ہیں ان کا تعلق حقائق سے کچھ نہیں ۔ یعنی کہ کوئی طالبہ شہید نہیں ہوئی ہے ۔
اس کی بنیاد انہوں اس بات پر قائم کی ہے کہ چونکہ اس وقت اس آپریشن کو ببنیاد بناکر ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے گئے ہے ، اس لئے ریاست کو بچانے کی خاطر حقائق کو منظر عام پر لانا ضروری ہے۔
مفتی عبد الرحیم صاحب کے بعد ان کے شاگرد مفتی طارق مسعود صاحب بھی انتہائی جذباتی بیان کرتے ہوئے نظر آیا جس میں انہوں نے کئی سوالات کے ساتھ ساتھ اس بات کو واضح کیا کہ اگر کوئی شہید ہوا ہے تو ان کے نام پیش کرو ، وہ کون تھے ، کہا سے تھے ، کیا حقیقت ہے ۔ اور بالفرض اگر کوئی شہید ہوئی بھی ہے تو اس کا ذمہ دار ریاست کے ساتھ ساتھ خود مولانا عبد العزیز بھی ہے ، کیوں وہ طالبات کو فوج کے مقابلہ میں لاکھڑا کیا ۔ اور خود مولانا عبد العزیز صاحب ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانا چاہتے تھے ، اور امارت کے لالچ میں انہوں نے مفتی عبد الرشید کے خطوط بھی لکھے جس میں انہوں نے اپنے امیر ہونے کا اعلان کیا اور بیعت کا کہا تھا۔ اس کے علاوہ کچھ خطوط جس میں انہوں نے ہتھیار اور گولہ باری کے حوالے سے لکھا تھا کہ ہم نے اسلحہ وغیرہ جمع کیا ہے ، عنقریب اسلام آباد پر قبضہ کرکے خلافت قائم کریں گے ۔
دوسری جانب مولانا عبدالعزیز صاحب ان دعاوی کے انکار کرتے ہوئے بار بار مناظرہ و مباہلہ کا چیلنج دیتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔
مگر جہاں تک راقم الحروف طرفین کے گفتگو کو سن رہا ہے ، اس سے اب تک اس نتیجہ تک پہنچا ہوں کہ مفتی عبد الرحیم صاحب کو اگر چہ قطعی طور پر اس مسئلہ میں حق پر تو نہیں سمجھتا کیونکہ خود مفتی عبد الرحیم صاحب کو قطعی علم نہیں اس بارے میں کہ طالبات شہید ہوئی ہے یا نہیں ۔ وہ خارجی شواہد کی بنیاد پر یہ بات کررہے ہیں اس لئے انہوں نے کہا ہے کہ اگر شہداء ثابت ہو جائے تو میں اس مسئلہ سے رجوع کرنے کو تیار ہوں ۔ مگر ان کی باتیں اپنی جگہ ٹھیک ہے ، حقائق و قرائن بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ واقعہ مبہم ہے اور جو کچھ ہمیں بتایا گیا تھا اس کے بر خلاف ہیں ۔ مزید مولانا عبدالعزیز صاحب کے بیانات اس کو اور مبہم اور مشکوک بنارہے ہیں ، مولانا عبدالعزیز صاحب بات کو گھما رہے ہیں اس لئے اصل بات پیش کرے اور حقائق کو حکمت عملی کے ساتھ سامنے لائے تب بات واضح ہوگی ۔ مگر مولانا صاحب بار بار مناظرہ و مباہلہ کا چیلنج دیتے ہیں جو ان کا خاصہ ہے جب بھی ان سے کوئی اختلاف کرے تو حضرت فورا مناظرہ و مباہلہ کا چیلنج دیتے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں بجائے مناظرہ کے مولانا صاحب کو حکمت عملی کے ساتھ حقائق کو سامنے لانا چاہیے ، تاکہ مزید اس مسئلہ کو مشکوک ہونے سے بچائے ۔ کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں لوگوں میں علم و شعور ہے وہ طرفین کی باتیں سن کر یقینا اصل بات کو سمجھتے ہیں ۔ اور جانتے ہیں کہ کس کا پلڑا بھاری ہے ۔
مولانا عبدالعزیز صاحب کہتے ہیں کہ اگر ہم نام وغیرہ پیش کرے تو ان کے گھر والوں کو خطرہ ہے ریاست کی جانب سے ۔ اس لئے ہم ظاہر نہیں کررہے ۔ مگر اہل فہم کے ہاں یہ غیر معقول بات ہے ۔ کیونکہ جن کے نام تم ریاست سے چھپا رہے ہو اگر وہ شہید ہوئی ہیں تو یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ریاست کو اس کا علم نہ ہو ۔ کیونکہ کیا جو شہید ہوئی ان کو کہی اور دفنایا گیا ؟ یا ویسے زمین میں دھنسا یا گیا ۔ ظاہر ہے ان کو ان کے آبائی علاقہ بھیجا گیا ، تو وہاں جب ان کی جنازہ وغیرہ پڑھائی گئی تو کیا وہ بات چھپ سکتی ہے ، ریاست کو اس کا علم نہیں ہوسکتا ۔ غرض ہر طریقے سے اگر ریاست چاہے توان کا علم اسے ہوسکتا ہے یا اگر شہید ہوئے تو ریاست کو بالکل ان کا علم ہے ۔ اس لئے یہ انتہائی غیر معقول بات ہے کہ ریاست انہیں تنگ کرے گی
۔
اور یہ سوال سب کے ذہن میں آرہا ہیں کہ اگر لال مسجد میں کوئی شہید ہوئی ہے تو جیسے غازی عبدالرشید صاحب کو میڈیا پر دکھایا گیا ، ان کے بارے میں کہا گیا ،
اگر کوئی طالبہ شہید ہوئی ہیں تو ظاہر ان کی نماز جنازہ بھی ہوئی ہیں اور اب تک کوئی تو ایسا بندہ ہوگا جو ان کی نماز جنازہ میں شریک ہوگا ، اور وہ اس واقعہ کو آکر بیان کرے کہ فلاں جامعہ کے ایک طالبہ شہید کی نماز جنازہ میں ، میں خود شریک تھا ۔ مگر اب تک کوئی ایسا بیان نہیں آرہا نہ کوئی سامنے آکر یہ کہہ رہا ہے کہ ہاں میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا شہداء کو یا شہید کو یا فلاں طالبہ کی نماز جنازہ میں ، میں شری
ک تھا ۔
محمد عدنان جاوید حنفی
کوئٹہ بلوچستان

Comments
Post a Comment
Warning ⚠️
Don't use bad words.