Posts

اقرار الحسن کی تحریک اور بلوچستانی عوام

Image
 اقرار الحسن کی تحریک اور بلوچستانی عوام 15 جنوری کو اقرار الحسن صاحب اپنی سیاسی پارٹی کا اعلان کرے گا ، اور اس کا آغاز اور مقصد ایک خوبصورت دلکش اور مائل کرنے والے نعرے سے کررہا ہے کہ ہماری پارٹی میں کسی قسم کا کوئی لیڈر شپ نہیں بلکہ سب برابر اور ہمارا مقصد پاکستان میں نظام نافذ کرنا ہے کہ ایک عام پاکستانی بھی وزیر اعظم بن سکے ، صدر بن سکے ، وزیر اعلی بن سکے ، نسلی اور موروثی نظام کا خاتمہ ۔  گویا زبان پر خدمتِ خلق، دل میں خدمتِ نفس؛ آغاز عوام کے نام پر، اختتام اپنے نام پر۔ اگر تاریخ کے دریچوں کو جانچا جائے اور اوراق کے ورق گردانی کی جائے تو ایسی تنظیمیں اور پارٹیاں بہت سے ایسے ملیں گے جو لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے ایک اچھے آواز اور نعرہ متعارف کرتے ۔  دور نہ جائیے ماضی قریب میں عمران خان صاحب نے وزارت کے لئے عوام کو کتنا بے وقوف بنایا یہ تو شاید اب ان کے اپنے قریبی دوست اور کارکن بھی پہچان گئے ہوں گے۔ نیا پاکستان اور نوجوانوں کو نوکریاں جیسے نعروں کے لالچ دے کر اقتدار میں آنے کے بعد نوجوانوں نے مجبور ہوکر کہا نہیں چاہیے نیا پاکستان اور نوکری بس وہی پرانا پاکستان...

ڈاکومنٹری کا جواب یا گلوخلاصی ؟

Image
ڈاکومنٹری کا جواب یا گلوخلاصی ؟ گزشتہ ہفتہ رفتار چینل والوں نے مولانا فضل الرحمن صاحب کے کردار پر ایک ڈاکومنٹری بنائی ، جس میں انہوں نے مولانا صاحب کے منفی کردار پیش کیا ۔  اس کے جواب پر تبصرہ کرنے سے قبل میں یہ بات پیش کرنا چاہتا ہوں کہ مولانا فضل الرحمان صاحب ایک سیاسی لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ مدبر سیاستدان ہے ۔ اور ایک سیاسی لیڈر ہونے کے ناطے اگر انتظامی امور میں ان سے کچھ غلطی ہو جائے یا کوئی خامی پیش آجائے تو میرے خیال سے بڑے بڑے کارناموں کے سامنے چھوٹے چھوٹے غلطیوں کو دیکھا نہیں جاتا ۔ ان کی اہمیت نہیں رہتی ، رفتار چینل والے عموما شخصیات و دیگر چیزوں کا منفی کردار منظر عام پر لاتے ہیں ۔ اگر یہ ان کا موضوع ہے تو مجھے تو کوئی اعتراض نہیں مگر میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ فرد واحد کی غلطی کو افراد پر منطبق نہ کرے ، بس یہ ایک چیز اگر رفتار والے سمجھ جائے شاید بہت سی چیزوں میں ان کو بات سمجھ آجائے ۔ پچھلے سال بھی مدارس کے خلاف انہوں نے ایک ڈاکومنٹری بنائی تھی ، جب میں کراچی میں تھا سوچا تھا اس کا جواب یا ویڈیوں کی صورت میں دوں یا تحریر میں مگر فرصت نہیں ملی ۔ وہاں بھی انہوں نے یہی ک...

سی آئی اے خواجہ آصف کی شکل میں :

Image
 سی آئی اے خواجہ آصف کی شکل میں :  خواجہ آصف صاحب اسمبلی میں کہتا ہے کہ 80 کے دہائی میں سی آئی اے کے ایماء پر ہمارا تعلیمی نصاب تبدیل کیا گیا ، اور دینی نصاب کو تبدیل کرکے مذہب کو استعمال کیا گیا ۔ اور آج بھی اسلام آباد میں ہزاروں مدارس ناجائز و غیر قانونی طور پر بنے ہوئے ہیں ۔  محترم عرض ہے آپ کو نہ احساس ہے اور نہ آپ سنجیدہ ہے ، آپ محض دوسروں کے اشاروں پر ناچتے ہیں حتی کے خود الفاظ کا چناؤ بھی آپ کے اندر نہیں ، جس کا مشاہدہ ابھی حالیہ پاک و افغان میں ہم نے بخوبی کرلیا ۔ ایک وزیر دفاع کو جنگ کی حالت میں کس طرح رویہ رکھنا چاہیے انداز گفتگو کس طرح ہونا چاہیے ، وہ جناب میں مفقود تھا ۔  اور ابھی اسمبلی میں جناب لب کشائی کرتا ہے کہ 80 کے دہائی میں سی آئی اے کی بدولت ہمارا تعلیمی نصاب بھی تبدیل کیا گیا اور مذہب کے نام پر انتہا پسندی کو عام کیا گیا ۔ محترم یہ 80 کے دہائی کی بات نہیں اس سے پہلے 60 کے دہائی کے بعد تقریبا پاکستان سی آئی اے کا کالونی بن چکا ہے ۔ آپ آج جس عہدہ پر فائز ہیں یہ بھی سی آئی اے کی مرہون منت ہے ۔  80 کے دہائی میں سی آئی اے نے مذہب کو اگر استعم...

جدید ریسرچ و ٹیکنالوجی اور ہمارے علماء و طلباء

Image
 جدید ریسرچ و ٹیکنالوجی اور ہمارے علماء و طلباء  آج جب چیٹ جی بی ٹی سے ایک انگلش کتاب کی اقتباس کا صفحہ نمبر پوچھا تو حیرانگی ہوئی کہ یہ ہم کس زمانے میں جی رہے ہیں ۔ واقعہ سے قبل آپ کو یاد دلاؤں کہ ایک زمانہ تھا کہ علماء اور طلباء تحقیق کے میدان میں اپنے مثال آپ رکھتے تھے ۔ ہر عالم کی تحقیق گویا " ہر بوئے گل دیگر است " کے مصداق تھے ۔  چونکہ اُس زمانے میں جدید ٹیکنالوجی معدوم تھا ، اسی طرح کتابوں کی کمی بھی انتہائی زیادہ تھی ۔ یعنی کہ کسی کتاب کے کچھ نسخے مخصوص لائبریری یا پھر مخصوص اشخاص کے ساتھ ہوتے ۔ اور لوگ دور دور سے اس کتاب کے مطالعہ کرنے اور اس اس سے استفادہ کرنے کےلئے سفر کرتے ۔ پھر وہ سفر ایسا سفر نہیں جو آجکل ہمارا سفر ہے جو گھنٹوں میں کئی میلوں کا سفر بآسانی طے ہوجاتا ہے ۔ وہ سفر جو ایک ہفتوں کا ہوتا ، یا مہینوں کا اور وہ بھی مشقت سے بھرا ۔  آج تو عجیب زمانہ ہے کتابوں کے نسخے ملنا تو دور کی بات ، وہ تو اتنی کثیر ہے کہ کوئی حد نہیں ۔ مگر اب تو آسانی یہاں تک ہوئی دنیا جہاں کی کتاب آپ کو گھر بیٹھے تیار مل سکتا ہے ۔ اور آپ مطالعہ کرسکتے ہیں ۔ مگر بات پھر وہی ...

پاک و افغان جنگ میں مرکزی کردار کس کا؟ مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے ؟

Image
 پاک و افغان جنگ میں مرکزی کردار کس کا؟  مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے ؟ حقائق و تجزیہ ۔ نوٹ : میری تحریر ریاست مخالف ہر گز نہیں اور نہ اسے اس پر محمول کرے ، چونکہ دو مسلم قوم کی جنگ ہے ، اور یہ جنگ کسی اور کے اشاروں پر جاری ہے ، اس لئے عوام کے سامنے حقائق پیش کرنا ناگزیر ہے ۔  کیا یہ محض اتفاق ہے کہ آئے روز پاکستان امریکہ و دیگر ممالک جاکر ٹرمپ کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا کر انہیں نوبل پرائز کے لئے پیش کرتا ہے ۔ اور ابھی حال ہی میں مصر میں غزہ امن معاہدہ کانفرنس میں ٹرمپ جنرل عاصم منیر کو اپنے پسندیدہ سپہ سالار کہہ کر ان کی کمی محسوس کرتا ہے ، اور یہ بات تمام ممالک کے وزراء کے سامنے کرتا ہے ۔  یہ سب کیونکر ہوا ؟ ذرا میں آپ کو آج سے تقریبا ایک مہینے پہلے کی حالت کی طرف لے جاتا ہوں ۔ آج سے ایک مہینہ قبل ٹرمپ نے دھمکی آمیز لہجہ میں افغانستان سے بلگرام ائیر بیس لینے کا مطالبہ کیا ۔ جس پر افغانستان نے نہ صرف انکار کیا بلکہ انتہائی سخت لہجہ میں یہ کہہ کر ٹرمپ کی دھمکی کو جوتے کے نوک پر رکھا کہ بلگرام ائیر بیس کا تمہیں ایک انچ بھی نہیں ملے گا ، چاہے جو بھی کرنا ہ...

اپنے ذہن کو قیدی نہ بنائے ۔

Image
 
Image
 قضیہ لال مسجد اور مفتی عبد الرحیم صاحب ، حقائق و تجزیہ  آج 11 اکتوبر 2025 بروز ہفتہ ہے ، ملک پاکستان و دیگر ممالک میں اہم واقعات رونما ہورہے ہیں ، مگر بدقسمتی سے عرصہ دراز سے ڈائری لکھنا ترک کیا ہوں ، دیگر مصروفیات کے ساتھ ساتھ " حقانیت قرآن " کی تصنیف میں مشغولیت اور درسی کتب کے مطالعہ حالات پر لکھنے کی اجازت نہیں دیتا ، پہلی فرصت میں وقت بچا کر حقانیت قرآن کو دیتا ہوں ، اس لئے حالات پر لکھنے کا وقت میسر نہیں ہوتا ۔  آج جب اہم مسئلہ ملکی سطح پر موضوع سخن بن چکا ہے ، جس کا تعلق برین واشنگ کے ساتھ ساتھ حقائق و پروپیگنڈا سے بھی ہے ، اس لئے قلم کا رخ اس جانب کررہا ہوں ۔  غالبا 2006 کے اواخر میں چچا جان نے ایک کمپیوٹر خریدا ، اور محل میں یہ تیسرا کمپیوٹر تھا جو صرف ہمارے گھر میں موجود تھا ، اس سے ماقبل ماموں اور ایک رشتہِ دار کے گھر میں تھا ۔ اور چونکہ محلہ کے مسجد کا امام والد مرحوم تھے اس لئے دین کے اعتبار سے کوئی مسئلہ پیش آتا تو محلہ والے اکثر والد مرحوم سے پوچھتے اور ویڈیوز کمپیوٹر میں دیکھتے ۔  ایک دن چچا نے بازار سے دو سی ڈی لائی ، دونوں مولانا ضیاء الرح...