اقرار الحسن کی تحریک اور بلوچستانی عوام

 اقرار الحسن کی تحریک اور بلوچستانی عوام

15 جنوری کو اقرار الحسن صاحب اپنی سیاسی پارٹی کا اعلان کرے گا ، اور اس کا آغاز اور مقصد ایک خوبصورت دلکش اور مائل کرنے والے نعرے سے کررہا ہے کہ ہماری پارٹی میں کسی قسم کا کوئی لیڈر شپ نہیں بلکہ سب برابر اور ہمارا مقصد پاکستان میں نظام نافذ کرنا ہے کہ ایک عام پاکستانی بھی وزیر اعظم بن سکے ، صدر بن سکے ، وزیر اعلی بن سکے ، نسلی اور موروثی نظام کا خاتمہ ۔ 

گویا زبان پر خدمتِ خلق، دل میں خدمتِ نفس؛ آغاز عوام کے نام پر، اختتام اپنے نام پر۔ اگر تاریخ کے دریچوں کو جانچا جائے اور اوراق کے ورق گردانی کی جائے تو ایسی تنظیمیں اور پارٹیاں بہت سے ایسے ملیں گے جو لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے ایک اچھے آواز اور نعرہ متعارف کرتے ۔ 

دور نہ جائیے ماضی قریب میں عمران خان صاحب نے وزارت کے لئے عوام کو کتنا بے وقوف بنایا یہ تو شاید اب ان کے اپنے قریبی دوست اور کارکن بھی پہچان گئے ہوں گے۔ نیا پاکستان اور نوجوانوں کو نوکریاں جیسے نعروں کے لالچ دے کر اقتدار میں آنے کے بعد نوجوانوں نے مجبور ہوکر کہا نہیں چاہیے نیا پاکستان اور نوکری بس وہی پرانا پاکستان ہی ٹھیک ہے ۔ 

علاوہ ازیں روسی انقلاب اور لینن و مارکس کی تاریخ اگر پڑھی جائے تو اس جیسے کرداروں سے بھری پڑی ہے ۔ 

اقرار الحسن بھی گویا شہد میں زہر ملانے کی کوشش کررہا ہے ۔ بلکہ یہ ضروری ہے اس کے بغیر ظاہر ہے کون اس کی تحریک کا حصہ بنے گا ۔ 

مگر اس شہد کو چکھنے والے سب سے پہلے عوام کالانعام میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے جذباتی ، عوام ہوں گے ۔ انہیں سے اقرار صاحب کو قربانی اور عقیقہ کا بکرا ملے گا ۔ یہی سے وہ اپنی سیاست کو چمکائے گا ۔ اور یہی سے شاید وہ اقتدار تک پہنچ جائے ۔ 

کیونکہ پورا پاکستان سیاستدان سمیت ان کی پارٹیاں انہیں دو صوبوں سے چل رہا ہے ۔ ماضی میں بھی اس کی مثالیں موجود ہے اور آئندہ بھی ان شاءاللہ آپ اس منظر کو دیکھ لیں گے ۔ 

یہ الگ موضوع ہے کہ بلوچستان کے عوام استعمال کیوں ہوتے ہیں ؟ یہاں تنظیمیں کیوں بنتے ہیں اور " ماروں حکومت کرو" اس جملے پر یہاں کیوں عمل زیادہ ہے ۔ ان شاءاللہ کسی اور موقع پر یہ بھی عرض کیا جائے گا ۔ 

ابھی فل حل آپ دیکھتے رہیے اقرار الحسن صاحب کے خوشنما دلکش نعروں کو ۔ ان شاءاللہ انہیں نعروں کے ساتھ وہ تو ضرور آسمانوں کو چھو لیں گے مگر بلوچستان اور خیبرپختونخوا والے زمین کو ناپیں گے ۔ 


محمد عدنان جاوید حنفی 

کوئٹہ بلوچستان 


3 جنوری 2026ء

Comments

Popular posts from this blog

پاک و افغان جنگ میں مرکزی کردار کس کا؟ مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے ؟

ڈاکومنٹری کا جواب یا گلوخلاصی ؟