قضیہ لال مسجد اور مفتی عبد الرحیم صاحب ، حقائق و تجزیہ آج 11 اکتوبر 2025 بروز ہفتہ ہے ، ملک پاکستان و دیگر ممالک میں اہم واقعات رونما ہورہے ہیں ، مگر بدقسمتی سے عرصہ دراز سے ڈائری لکھنا ترک کیا ہوں ، دیگر مصروفیات کے ساتھ ساتھ " حقانیت قرآن " کی تصنیف میں مشغولیت اور درسی کتب کے مطالعہ حالات پر لکھنے کی اجازت نہیں دیتا ، پہلی فرصت میں وقت بچا کر حقانیت قرآن کو دیتا ہوں ، اس لئے حالات پر لکھنے کا وقت میسر نہیں ہوتا ۔ آج جب اہم مسئلہ ملکی سطح پر موضوع سخن بن چکا ہے ، جس کا تعلق برین واشنگ کے ساتھ ساتھ حقائق و پروپیگنڈا سے بھی ہے ، اس لئے قلم کا رخ اس جانب کررہا ہوں ۔ غالبا 2006 کے اواخر میں چچا جان نے ایک کمپیوٹر خریدا ، اور محل میں یہ تیسرا کمپیوٹر تھا جو صرف ہمارے گھر میں موجود تھا ، اس سے ماقبل ماموں اور ایک رشتہِ دار کے گھر میں تھا ۔ اور چونکہ محلہ کے مسجد کا امام والد مرحوم تھے اس لئے دین کے اعتبار سے کوئی مسئلہ پیش آتا تو محلہ والے اکثر والد مرحوم سے پوچھتے اور ویڈیوز کمپیوٹر میں دیکھتے ۔ ایک دن چچا نے بازار سے دو سی ڈی لائی ، دونوں مولانا ضیاء الرح...
Popular posts from this blog
پاک و افغان جنگ میں مرکزی کردار کس کا؟ مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے ؟
پاک و افغان جنگ میں مرکزی کردار کس کا؟ مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے ؟ حقائق و تجزیہ ۔ نوٹ : میری تحریر ریاست مخالف ہر گز نہیں اور نہ اسے اس پر محمول کرے ، چونکہ دو مسلم قوم کی جنگ ہے ، اور یہ جنگ کسی اور کے اشاروں پر جاری ہے ، اس لئے عوام کے سامنے حقائق پیش کرنا ناگزیر ہے ۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ آئے روز پاکستان امریکہ و دیگر ممالک جاکر ٹرمپ کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا کر انہیں نوبل پرائز کے لئے پیش کرتا ہے ۔ اور ابھی حال ہی میں مصر میں غزہ امن معاہدہ کانفرنس میں ٹرمپ جنرل عاصم منیر کو اپنے پسندیدہ سپہ سالار کہہ کر ان کی کمی محسوس کرتا ہے ، اور یہ بات تمام ممالک کے وزراء کے سامنے کرتا ہے ۔ یہ سب کیونکر ہوا ؟ ذرا میں آپ کو آج سے تقریبا ایک مہینے پہلے کی حالت کی طرف لے جاتا ہوں ۔ آج سے ایک مہینہ قبل ٹرمپ نے دھمکی آمیز لہجہ میں افغانستان سے بلگرام ائیر بیس لینے کا مطالبہ کیا ۔ جس پر افغانستان نے نہ صرف انکار کیا بلکہ انتہائی سخت لہجہ میں یہ کہہ کر ٹرمپ کی دھمکی کو جوتے کے نوک پر رکھا کہ بلگرام ائیر بیس کا تمہیں ایک انچ بھی نہیں ملے گا ، چاہے جو بھی کرنا ہ...
ڈاکومنٹری کا جواب یا گلوخلاصی ؟
ڈاکومنٹری کا جواب یا گلوخلاصی ؟ گزشتہ ہفتہ رفتار چینل والوں نے مولانا فضل الرحمن صاحب کے کردار پر ایک ڈاکومنٹری بنائی ، جس میں انہوں نے مولانا صاحب کے منفی کردار پیش کیا ۔ اس کے جواب پر تبصرہ کرنے سے قبل میں یہ بات پیش کرنا چاہتا ہوں کہ مولانا فضل الرحمان صاحب ایک سیاسی لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ مدبر سیاستدان ہے ۔ اور ایک سیاسی لیڈر ہونے کے ناطے اگر انتظامی امور میں ان سے کچھ غلطی ہو جائے یا کوئی خامی پیش آجائے تو میرے خیال سے بڑے بڑے کارناموں کے سامنے چھوٹے چھوٹے غلطیوں کو دیکھا نہیں جاتا ۔ ان کی اہمیت نہیں رہتی ، رفتار چینل والے عموما شخصیات و دیگر چیزوں کا منفی کردار منظر عام پر لاتے ہیں ۔ اگر یہ ان کا موضوع ہے تو مجھے تو کوئی اعتراض نہیں مگر میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ فرد واحد کی غلطی کو افراد پر منطبق نہ کرے ، بس یہ ایک چیز اگر رفتار والے سمجھ جائے شاید بہت سی چیزوں میں ان کو بات سمجھ آجائے ۔ پچھلے سال بھی مدارس کے خلاف انہوں نے ایک ڈاکومنٹری بنائی تھی ، جب میں کراچی میں تھا سوچا تھا اس کا جواب یا ویڈیوں کی صورت میں دوں یا تحریر میں مگر فرصت نہیں ملی ۔ وہاں بھی انہوں نے یہی ک...

Comments
Post a Comment
Warning ⚠️
Don't use bad words.