جدید ریسرچ و ٹیکنالوجی اور ہمارے علماء و طلباء

 جدید ریسرچ و ٹیکنالوجی اور ہمارے علماء و طلباء 

آج جب چیٹ جی بی ٹی سے ایک انگلش کتاب کی اقتباس کا صفحہ نمبر پوچھا تو حیرانگی ہوئی کہ یہ ہم کس زمانے میں جی رہے ہیں ۔ واقعہ سے قبل آپ کو یاد دلاؤں کہ ایک زمانہ تھا کہ علماء اور طلباء تحقیق کے میدان میں اپنے مثال آپ رکھتے تھے ۔ ہر عالم کی تحقیق گویا " ہر بوئے گل دیگر است " کے مصداق تھے ۔ 

چونکہ اُس زمانے میں جدید ٹیکنالوجی معدوم تھا ، اسی طرح کتابوں کی کمی بھی انتہائی زیادہ تھی ۔ یعنی کہ کسی کتاب کے کچھ نسخے مخصوص لائبریری یا پھر مخصوص اشخاص کے ساتھ ہوتے ۔ اور لوگ دور دور سے اس کتاب کے مطالعہ کرنے اور اس اس سے استفادہ کرنے کےلئے سفر کرتے ۔ پھر وہ سفر ایسا سفر نہیں جو آجکل ہمارا سفر ہے جو گھنٹوں میں کئی میلوں کا سفر بآسانی طے ہوجاتا ہے ۔ وہ سفر جو ایک ہفتوں کا ہوتا ، یا مہینوں کا اور وہ بھی مشقت سے بھرا ۔ 

آج تو عجیب زمانہ ہے کتابوں کے نسخے ملنا تو دور کی بات ، وہ تو اتنی کثیر ہے کہ کوئی حد نہیں ۔ مگر اب تو آسانی یہاں تک ہوئی دنیا جہاں کی کتاب آپ کو گھر بیٹھے تیار مل سکتا ہے ۔ اور آپ مطالعہ کرسکتے ہیں ۔ مگر بات پھر وہی کہ جتنی آسانی ہوگی اتنی بے قدری ۔ 

آج میں اپنی کتاب (حقانیت قرآن جلد دوم ) لکھنے میں مصروف تھا تو مجھے ایک حوالہ کی ضرورت پڑی ۔ اور وہ حوالہ انگلش کتاب میں تھی ۔ یعنی ایک کتاب کی بحث آگئی مگر وہ کتاب انگلش میں ہے اور قدیم ہے ۔ اور وہ مسلم مفکر سید امیر علی کی کتاب ( the spirit of Islam) ہے ، جو بیسویں صدی کے اوائل میں لکھی گئی ہے ۔ جس میں اسلام کا فلسفہ اور رسول اللہ کی سیرت کا جائزہ لیا گیا ہے ۔ بدقسمتی سے انگلش سے میری اتنی واقفیت نہیں ، کہ میں کسی کتاب سے استفادہ کرسکو ۔ تو مجبورا گوگل ٹرانسلیٹ کا سہارہ لینا پڑا ۔ چونکہ یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ ٹرانسلیٹ میں بھی غلطیاں ضرور ہوتی ہے اس لئے بعض تو لکیر کے فقیر ہوتے ہیں جیسے گوگل نے کہا ویسے مانتے ہیں تحقیق ان کا کچھ نہیں ہوتا ۔ تو جس صفحہ سے اقتباس پیش کیا گیا تھا وہ مجھے اس صفحہ پر ملا نہیں ۔ ایڈیشن تبدیل ہونے کی وجہ سے ، اس لئے مکمل کتاب کی پی ڈی ایف کو چیٹ جی پی ٹی کو سینڈ کرکے اردو میں لکھ دیا کہ اس کتاب میں یہ اقتباس موجود ہے یہ نکال کر دے۔ چند سیکنڈ بعد اس اقتباس کی انگلش نکال کر صفحہ نمبر بھی بتا دیا کہ مذکورہ عبارت فلاں صفحے پر موجود ہے ۔ 

مجھے تو حیرانگی ہوئی کہ اس قدر آسانی کے باجود اگر ہم اب بھی کچھ نہ کرے تو یقینا سوائے افسوس کے اور کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ اور خصوصاً علماء کرام اور طلباء کرام اس جیسے ٹیکنیز سے ضرور فائدہ حاصل کرے ۔ ہمارا المیہ یہ ہے جب موبائل ہاتھ میں آتا ہے تو سوائے فیس بک ، وٹس ایپ ، اور ٹک ٹاک کے اور کچھ دیکھتے نہیں۔ اور موبائل سے اصل جو کام لینا ہوتا ہے وہ لیتے نہیں ، سارا ٹائم موبائل کو دینے کے بعد کچھ ہاتھ نہیں آتا سوائے کچھ ریلز اور بیانات دیکھ کر ، غرض جس طرح فائدہ حاصل کرنا تھا اس طرح کرتے نہیں ، اور جو کرتے ہیں وہ آٹے میں نمک کے برابر ۔ 

یہ دور کسی ایک چیز پر کام کرنے کا نہیں ، یہ بیک وقت کئی محاذ پر کام کرنے کا وقت ہے ۔ کیونکہ جو کام پہلے علماء کرام کسی ایک محاذ پر کرتے تھے ان کے لئے اتنی آسانیاں نہیں تھی ۔ آج کے دور میں ہر طالب علم موبائل رکھتا ہے ۔ اور بجائے فضولیات کے آپ کچھ ٹائم دیگر چیزوں کو دے ، یعنی آپ مقالہ نگاری آسانی سے کرسکتے ہیں ۔ کسی موضوع پر لکھنا اس دور میں اتنا مشکل نہیں ہے ۔ میڈیا پر آکر اسلام کا دفاع کرسکتے ہیں ۔ اور وہ بھی آسان طریقے سے ۔ اور ریسرچ پہلے سب سے مشکل کام تھا آج تو سب سے آسان کام ہوگیا ۔ 

حاصل کلام یہ ہے کہ جو کام پچھلے ادوار میں سالوں میں ہوتا تھا آج وہ مہینوں میں ہوتا ہے ۔ یعنی پچھلے ادوار میں اگر کوئی کتاب تصنیف کرتا یا کسی موضوع پر لکھتا تو اس کو سال یا کئی مہینے لگ جاتا ۔ آج کے دور میں کسی موضوع پر بہترین تحقیقی کالم لکھنا چاہیے تو زیادہ زیادہ ایک مہینے میں مکمل کرسکتے ہیں ۔ 

اس لئے بجائے موبائل کے منفی استعمال کے اسے مثبت استعمال کرکے اس سے فائدہ حاصل کرے ۔ 


محمد عدنان جاوید حنفی 

2 / نومبر 2025 ء


Comments

Popular posts from this blog

پاک و افغان جنگ میں مرکزی کردار کس کا؟ مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے ؟

ڈاکومنٹری کا جواب یا گلوخلاصی ؟