حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کا قتل اور اسرائیل کا اعترافی بیان

حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کا قتل اور اسرائیل کا اعترافی بیان 

اصل حقائق ، اور سازشی عناصر کون؟

آج 29 دسمبر 2024 اسرائیلی میڈیا نے حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل کے منصوبے بندی کے حوالے سے کچھ خفیہ رپورٹس سامنے لانے کا دعویٰ کیا ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ اسماعیل ہنیہ قتل کا سازش کئی مہینے پہلے کیا گیا تھا۔ اور جس رات انہیں قتل کرنا تھا ۔ اس رات ان کے کمرے کا اے سی یونٹ ٹوٹنے کے باعث قتل کا منصوبہ کچھ بگڑ گیا ۔ لیکن جب اے سی کو درست کیا گیا تو واپس اپنے کمرے میں آگیا اور رات 1 بجے کے قریب ریموٹ کنٹرول بم سے انہیں اڑایا گیا ۔ 

یاد رہے اسماعیل ہنیہ ہو 31 جولائی 2024 کو ایران میں اس وقت شہید کیا گیا جب وہ ایران کے نئے صدر مسعود پزشکیاں کی تقریب حلف برادری میں شرکت کے لئے وہاں موجود تھے ۔ 

یہ بات تو حق اور سچ ہے کہ اسماعیل ہنیہ کو شہید کرنے میں براہ راست اسرائیل ملوث ہیں ۔ اور اب ان کا اعترافی بیان خود اس بات پر دال ہیں ۔ 

لیکن عجب نہیں کہ اسماعیل ہنیہ کو ایران ہی میں قتل کا منصوبہ کیوں کرنا پڑا ؟ اور دوسری جانب ایران کے سابق صدر کو کیسے مارا گیا اور ہیلی کاپٹر میں ان کو قتل کیا گیا یا بعض رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آیا ۔ 

کیا عجب اتفاق ہے سابق صدر کو قتل کیا گیا اور نئے صدر کی تقرری کے بعد تقریب حلف برادری میں اسماعیل ہنیہ کو دعوت دیا گیا اور یہی انہیں شہید کیا گیا ۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ :

میں جرم کا اعتراف کر کے

کچھ اور ہے جو چھپا گیا ہوں


بات صاف ہے اعتراف جرم تو اسرائیل نے کرلیا لیکن اول بات جسے شاعر نے دوسرے مصرعہ ٫٫ کچھ اور ہے جو چھپاگیا ہوں ٬٬ میں واضح کیا ہے ۔ اس سے اب تک کچھ مہربان ناواقف ہیں ۔ 


اس قتل اور منصوبہ بندی میں براہ راست ایران ملوث ہے ۔ میرے اس کہنے سے یہ مطلب نہیں کہ پوری ایرانی قوم اس میں شریک ہیں ۔ بلکہ ایران کے موجودہ حکومت اور فوج اس میں ملوث ہیں ۔ بظاہر ایران اسرائیل مخالفت کی بات کرتا ہے اور اپنے کو اسرائیل کے صف اول کے دشمنوں میں شمار کرتا ہیں لیکن وہ محض ایک ڈھول کی آواز ہیں جو اندر سے خالی ہے ۔ 

اور حال ہی میں جو اسرائیل اور ایران کے مابین دو جھڑپ میزائل داغنے کی صورت میں پیش آئی ۔ محض ایک فراڈ اور دھوکہ اور عوام کی نظریں اسماعیل ہنیہ کے قتل سے ہٹانا اور اپنی صفائی پیش کرنے کے بجز اور کچھ نہیں تھا ۔

کیونکہ یہ میزائل ایسے تھے گویا آپس میں مذاق ، اور عوام کی طرف سے یہ تنقید بھی سامنے آیا کہ ایران کے میزائلز پر یہ بات لکھی کی تھی ( خیر سے جاؤ اور خیر سے آؤ) ۔ اس لئے نہ جانی نقصان کے خبریں آئے اور مالی ۔ سوائے چند کے ۔ اتنے میزائلز داغنے کی بعد بھی کچھ نہ ہوا ہے تو سمجھ جانا چاہیے کہ :


تعجب ہے کہ عشق و عاشقی سے

ابھی کچھ لوگ دھوکا کھا رہے ہیں


جی ہاں ! اس عشق اور معشوقی میں ہم ضرور دھوکہ کھائیں گے ۔ کیونکہ دعوے تو کچھ اور ہے لیکن کررہے ہیں کچھ اور ۔


اصل حقائق یہ ہے کہ ایران کے سابق صدر ابراہیم رئیسی کی موت ہیلی کاپٹر میں حادثہ کی وجہ سے نہیں ہوئی ۔ بلکہ ایک سازش اور منصوبہ بندی کے ذریعے حادثہ کے نام پر انہیں قتل کروایا گیا ۔ اور اس میں بھی اسرائیل کا ہاتھ تھا ۔ جو در اصل اسماعیل ہنیہ کو شہید کروانے کا منصوبہ کا حصہ تھا ۔ 

اور منصوبہ بھی یہی تھا کہ سابق صدر کے قتل کے بعد نئی صدر کی تقرری میں اسماعیل ہنیہ کو دعوت دیا جائے اور پھر یہی انہیں شہید کیا جائے۔ اور اس منصوبہ کو بقول برطانیہ میڈیا تین مہینے پہلے تشکیل دیا گیا تھا ۔ لیکن ایسے منصوبے تین مہینے نے اندر تشکیل دینا مشکل لگتا ہے ۔ حالات سے پتہ چلتا ہے کہ تین مہینے سے زیادہ اس منصوبہ کے لئے تیاری جاری تھی ۔


اور اسماعیل ہنیہ کو ایران ہی میں شہید کرنے کا منصوبہ اور پھر ایران سے میزائلز داغنے کا ڈرامہ بھی اس بات پر دال ہے کہ اس میں ایرانی حکام اور فوج براہ راست ملوث ہیں ۔ اور اسرائیل چاہتا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے اندرونی معاملات عوام کے سامنے نہ آئے اور ان کی شک دور کرنے کے لیے یہ سب کچھ کیا گیا ۔ اور پھر ایران کی طرف سے اسرائیل مردہ باد نعرے اور انتہائی مخالفت بھی اس بات پر دال ہیں کہ اصل بات اور اندرونی معاملات کچھ اور ہے جسے اب تک ظاہر نہیں کیا گیا ۔ 


کالم نگار : محمد عدنان 

29/12/2024




 

Comments

Popular posts from this blog

پاک و افغان جنگ میں مرکزی کردار کس کا؟ مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے ؟

ڈاکومنٹری کا جواب یا گلوخلاصی ؟