ایک اور اینٹ گر گئی دیوار حیات سے

ایک اور اینٹ گرگئی دیوارِ حیات سے 

رات کی آدھی پہر میں اس وقت ٹائم گیارہ بج کر پچپن منٹ (11:55) ہورہا ہے  ۔ اور اپنی تحریر کی آغاز دسمبر کی آخری دن 2024 سے کیا ہوں ، اور تقریبا جنوری کے پہلے دن 2025 میں اس کا اختتام کروں ۔ 

اور پانچ منٹ کے بعد لوگ خوشیاں منائیں گے ، اور نیا سال کی مبارکی ایک دوسرے کو دیں گے ، لوگوں سے معافیاں مانگیں گے، اور کیا کچھ نہیں ہوتا ۔

عقل مند اور اہل فہم آدمی وہ ہے جو گزرے ہوئے ایام سے کچھ سیکھے ۔ اگر وہ ٹھوکر کھایا ہو ،اور کہی پسل گیا ہو، اور آئندہ ایسی غلطیاں اور کمزوریاں دہرانے کی ہمت نہ کرے ۔ 

کیونکہ مرور ایام سے انسان بہت کچھ سیکھتا ہے ۔ جب انسان چوٹا ہوتا ہے تو ایام کے پھیرنے سے اس کو کچھ اندازہ نہیں ہوتا ۔ اور ایام کے گزرنے کے ساتھ ساتھ جب بڑا ہوتا جائے گا اور عمر میں تبدیلی ہوتی جائے گی ، تو ساتھ ساتھ اس کا عقل پختہ اور مضبوط ہوتا جاتا ہے ۔ کیونکہ وہ ان ایام سے کچھ سیکھتا ہے ۔ اور ان پر ان ایام میں ایسی حالات آئے ہیں جن کو وہ دوسری مرتبہ دہرانے کی ہمت نہیں کرتا ۔

اور بے وقوف اور احمق انسان وہ محض مرور ایام ہو دیکھتا رہتا ہے اور ان کے لئے سب کچھ برابر ہے ۔ نہ وہ خود کو تبدیل کرنے کا سوچتا ہے اور نہ مستقبل کی سوچ ان کی فکر میں ہے ۔ 

جب تک انسان خود کو بدلنے کا نہیں سوچتا تب تک اس کا بدلنا ناممکن ہوتا ہے ۔ گویا انسان کا بدلنا اور ترقی کرنا اس کی سوچ اور فکر پر منحصر ہے ۔ جتنی سوچ اونچی ہوگی اتنی کام اونچے ہوں گے ۔

اور اپنی زندگی میں اہمیت ان لوگوں کو دو ۔ جو آپ کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ اور ہمیشہ قدر کرتے ہیں ۔ 

لہذا نیا سال پر خوشی منانے سے بہتر ہے آپ اپنے مستقبل کا سوچے اور پچھلے سال جن حالات سے گزرے ہیں اس سال ان کا سامنا کرنے کی ہمت پیدا کرے اور جواں مردی سے آگے بڑھے ۔ اور اپنے رب پر توکل اور یقین کے ساتھ ان لوگوں کو کامیاب بن کر دکھائے ۔ جو آپ کو ناکامی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور کبھی آپ کی ترقی نہیں چاہتے ۔ اور اپنے دل کو ان کے لئے بڑا کرے اور ان کیلئے بھی دعا کرے کہ اللہ کریم جو ترقی مجھے عنایت کرے وہی ترقی بلکہ اس سے زیادہ ان کو بھی عنایت کرے ۔ 

کیونکہ دل کو بڑا کرنے سے انسان کی ترقیاں بڑے ہوں گے اور لوگوں کی نظروں میں ان کی قدر بھی زیادہ ہوگا ۔ تنگ نظر ، کم فہم اور حاسد ہمیشہ پسپا ہوتا رہتا ہے اور کہی نا کہی کسی چٹان سے ٹکرا کر اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑا مارتا ہے ۔ 

اپنی نظر اور سوچ وسیع کرے اور ہمیشہ وسیع الظرف بنے ۔ 

کیونکہ کامیاب وہی ہوتے ہیں جو مالک ہے وسیع الظرف کے ۔

 ایک اور اینٹ گرگئی دیوار حیات سے 

ناداں کہہ رہے ہیں نیا سال مبارک ہو


کالم نگار : محمد عدنان حنفی 


 

Comments

Popular posts from this blog

پاک و افغان جنگ میں مرکزی کردار کس کا؟ مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے ؟

ڈاکومنٹری کا جواب یا گلوخلاصی ؟