میں ایسے خدا کو کیوں مانو جو بچے کا پیٹ نہ بھرے اور جنت کے خواب دکھائے ؟

میں ایسے خدا کو کیوں مانو جو بچے کا پیٹ نہ بھرے اور جنت کے خواب دکھائے ؟

آج ایک ملحد کو یہ کہتے سنا جو کہہ رہا ہے کہ میں ایسے خدا کو کیوں مانو جو آج ایک بچے کا پیٹ نہ بھرے اور کل جنت کے خواب دکھائے ۔ 

آپ خدا کو مانے یا مانے ، ہمیں اس سے کیا لینا دینا ، ہمیں حکم ہے توحید کو بیان کرنا ، اور لوگوں کو سمجھانا ، اگر کوئی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ سمجھ سکتا ہے کہ خداوند تعالیٰ بچے کے پیٹ نہیں بھرتا اور جنت کے خواب دکھاتا ہے ، جو در حقیقت خواب نہیں حقیقت ہے ، اور ملحد اس حقیقت کو نہیں دیکھتے تو اس میں خداوند تعالی اور ہمارا کوئی قصور نہیں ۔ 

گرنہ بیند روزِ روشن شپرہ

 چشم چشمہء آفتاب را چہ گُناہ

ملحدین کی نگاہ بمثل چشم چمکادڑ ہے ، نگاہ ان کی اپنی کمزور ہے اور الزام غیروں کو دیتے ہیں ، یہ سوال در حقیقت من جملہ اس بات کو بھی شامل ہے کہ خداوند تعالی آج کسی غریب یا بھوکے کو کھانا نہیں دیتا بھوکے رکھتا ہے اور جنت کے خواب دکھاتا ہے ، ایسے بے معنی اور احمقانہ باتیں سوائے ملحدین جن کے عقل و فہم میں کج روی ہے اور کوئی نہیں کرتا ۔ 

میں پوچھتا ہوں کہ آپ خداوند تعالی کے عدم وجود کا قائل ہے اور آپ کے ہاں خدا ہے ہی نہیں ، اور دنیا کی وجود قدیم ہے اور ختم نہیں ہوگی ، خودبخود بنا ہے ۔ 

اگر دنیا خودبخود بنا ہے اور وجود خداوند تعالی نہیں ہے تو دریافت طلب یہ امر ہے منکرین وجود خداوند تعالی سے کہ ملحدین میں کوئی امیر ہے اور کوئی غریب ، کوئی تندرست ہے اور کوئی صحت مند ، کوئی گونگا ہے تو کوئی بولتا ہے ، کسی کی بینائی ہے تو کسی کی نہیں ، کوئی اعلی ہے تو کوئی ادنیٰ، سوال یہ ہے کہ جب خدا کی وجود نہیں ہے اور کوئی خدا بھی نہیں ہے تو کیسے یہ سب ہوا ؟ کیوں سب برابر نہیں ہوئے ؟ یا سب اعلی درجے میں ہوتے یا ادنی یا متوسط ۔ یہ تفریق کیوں ہے ؟ 

یہ تفریق بتاتا ہے کہ کوئی ہے جو یہ تفریق کررہا ہے اور وہ ایک خداوند تعالی ہے ۔ اب رہی یہ بات کہ بچے یا بڑے یا کسی کو بھی بھوکے پیٹ کیوں رکھتا ہے اور کسی کو زیادہ دیتا ہے کسی کو کم ، تو عرض ہے کہ اگر کوئی ذات کسی چیز کے بنانے کا ارادہ کرے تو اس کا مقصد اور مطلب ہوتا ہے ، تو جب اللہ تعالیٰ نے عالم کو وجود بخشی اور پھر تخلیق انسانی کی شکل پیدا کی تو اس کا مقصد اور منزل کو بھی بیان کیا کہ اس کا عالم میں انسان کی تخلیق محض امتحان ہے ، اور اطاعت خداوند تعالی ہے ۔ جب تخلیق انسانی اطاعت خداوندی تعالی ہے اور اس عالم میں انسان کا امتحان ہے تو پھر اس کے بعد یہ سوال کرنا کہ کسی بھوکے کا پیٹ نہ بھرنا اور جنت کے خواب دکھانا محض جاہلانہ اور احمقانہ سوال ہے جس کا جواب بجز اس کے اور کیا ہوسکتا ہے کہ 

برین عقل و دانش بباید گریست 

کیونکہ جب اللہ نے انسانوں کا امتحان ہی لینا ہے اور دیکھنا ہے کہ کون میری اطاعت کرتا اور کون نافرمانی ۔ اور کسی کی امتحان بھوک کی حالت میں ہے تو کسی کی مفلسی میں اور کسی کی غربت میں ۔ اور امیر کی دولت میں ،تندرست کے صحت میں ، غرض ہر ایک کی امتحان ہے ۔ 

اور بالفرض اگر آپ کی بات تسلیم کی جائے کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کو پیٹ بھر کے کھانا وغیرہ دے ۔ اور یقینا دیتا بھی ہے اس میں کوئی شک نہیں ، کیونکہ رزق دینے کا وعدہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے ، اس میں کسی کی دخل نہیں ، بالفرض اگر اللہ تعالیٰ سب کو پیٹ بھر کے نہ کلاتا یا سب کو پیٹ بھر کے کلاتا ، یا سب کو مالدار بناتا یا نہیں ، تو اس سے تو نظام درہم برہم ہوتا ۔ کیونکہ اگر سب کو کھانا مل رہا ہے تو کمائے کون اور لوگ تو کام کرنا ںند کرتے تو روزی کہا سے کماتے کہا سے آتے ؟؟ اور سب کو مالدار بناتا تو کام کون کرتا ؟ سب گھر میں ہی بیٹھ جاتے ، آج اگر تیرے پاس پیسے ہے تو میں پوچھتا ہوں تو خود کیوں مزدور بلاتے ہے کام کیلئے ،خود کیوں نہیں کرتے ؟ اور اگر آپ انجینئرنگ نہیں جانتے تو انجینئر کا کام کون کرتا ؟ کیونکہ سب مالدار ہے تو انجینئرنگ کی کیا ضرورت ! 

اسی طرح ہر چیز کے بارے میں اگر غور و فکر کیا جائے تو کافی ساری خرابیاں پیدا ہوں گے ، اس لئے اللہ نے تفریق کی ہے اور کسی کو کس حال میں رکھا ہے اور کسی کو کس میں ، یہ تقسیم خداوندی تعالی ہے جو حکمت سے خالی نہیں ، اور اس کے ہر کام میں حکمت ہے ، اور جاننے والا اور حکمت والا ہے ۔

اور آخر میں اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کبھی کسی بچے یا بڑے غرض کسی انسان کو بھوکے پیٹ نہیں رکھتا انسان تو کجا کسی حیوان کو بھی ، کیونکہ رزق کا ذمہ خود باری تعالیٰ نے لیا ہے ، اور وہ ہر شخص اور حیوان کو اس کا رزق پہنچاتا ہے ،

میں چیلنج کرتا ہوں کوئی بھی ملحد ایک ایسا مثال پیش کرے کسی شخص کا کہ وہ بھوکہ پیٹ رہا ہوں اور کچھ بھی اس کو نہیں ملا ہوں ، قیامت کی صبح تک وہ ایسا مثال پیش کرنے سے ایسے عاجز رہیں گے جیسے کفار مکہ قرآن کی مثل کوئی سورۃ پیش کرنے سے عاجز ہوگئے۔ دیدہ باید

اس پر میں اپنا ایک شعر پیش کرتا ہوں کہ  

عدنان تیرے بس کا نہیں کام عقل کر

اب اس قدر ہجوم ہےٹانگیں سمیٹ لے


مضمون نگار : محمد عدنان حنفی 




Comments

Popular posts from this blog

پاک و افغان جنگ میں مرکزی کردار کس کا؟ مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے ؟

ڈاکومنٹری کا جواب یا گلوخلاصی ؟