مذہب اور دھرم کی ضرورت کیوں ہے ؟
مذہب اور دھرم کی ضرورت کیوں ہے ؟
آغاز سال میں ایک ملحد کو یہ کہتے ہوے سنا کہ نئے سال کے شروع میں ایک بار پھر خود سے یہ وعدہ کرتا ہوں کہ اس سال بھی بہت سے لوگوں کے مذہب اور دھرم کی قید سے رہائی کا سبب بنوں گا ۔
کہتے ہے کہ انسان کو اگر آوارہ چھوڑ دوں گے تو وہ خراب اور اوباش بنے گا ، اور اگر میاں بیوی کو وقت نہ دے تو بیگم صاحبہ کہی اور وقت گزارنے کی کوشش کرتا ہے اور اگر بیگم شوہر کو ٹائم نہ دے ، تو ظاہر ہے شوہر اپنے لئے ایسی شریک حیات تلاش کرے گا جو اس کی تسکین کا باعث بنے ۔
اگر مذہب اور دھرم کی قید کو ختم کیا جائے تو میں پوچھنا چاہتا ہوں ملحدین سے کہ اپنے بیٹے کی تربیت کیوں کرتے ہو ؟ بیٹا جب پیدا ہوا اور 5 سال بعد اس کو بس ویسے چھوڑ دو اپنے قید میں کیوں رکھا ہے ؟ کیونکہ تم تو آزاد پسند ہو اور قید کی رہائی کو برداشت نہیں کرتے ۔ جیسے تم بیٹے کی پرورش کرتے ہو اور آہستہ آہستہ اس کو بڑھا کر علم و آداب سکھاتے ہو ۔ اسی طرح مذہب اور دھرم سکھاتا ہے ۔ جس سے تم بیزاری اختیار کر چکے ہو ، جو در اصل بیزاری نہیں بلکہ مذہب کو اختیار تم نے بھی کیا ہے لیکن اتنے عقل پر پردہ پڑ چکا ہے کہ اتنا نہیں سمجھتے کہ میں مذہب سے بیزار ہوں یا پابند ۔
کیونکہ تمہارا یہ کہنا کہ ہم مذہب و دھرم نہیں مانتے ، گویا الگ مذہب ہے ۔ یہ بھی تو ایک فرقہ اور گروہ بن گیا جسے مذہب بیزار گروہ کہا جاتا ہے ۔ تو فرقہ اور مذہب تو یہ بھی بن گیا جس سے تم انکاری ہو ۔
یہاں پر ہم قدرے مختصر مذہب اور دھرم کے متعلق کچھ کہنا چاہتے ہے تاکہ قارئین کے لئے مزید دلچسپی کا باعث ہو ۔
سب سے پہلے ہمیں سمجھنا چاہیے کہ مذہب اور دھرم کہتے کسے ہیں ۔ یہ دونوں لفظ (مذہب اور دھرم) مترادف ہیں ، دھرم بھی مذہب کو کہتے ہیں جو سنسکرت کا لفظ ہے ۔
مذہب کی کئی تعریفیں کی گئیں ہیں ، مگر ایک تعریف جو آسان اور سہل ہے وہ یہ ہے کہ ٫٫ خدائے واحد مطلق یا ایک سے زائد خداؤں کے اصول اور نظام کے مطابق چلنا اور ان کی عبادت کرنا ٬٬ ہم نے ایک سے زیادہ خداؤں کا قید بھی بڑا دیا اس تعریف میں ۔ کیونکہ مذہب اگر اسلام کا ہے جو در حقیقت اصل مذہب ہے اور حق ہے انسانی فطرت کے عین مطابق اور مقتضئِ عقل ہے ۔ تو وہ مذہب والے ایک خدا کے قائل ہے اور ایک ہی خداوند عالم جو سب کا خدا ہے کی اطاعت کرتے ہیں ۔اور اگر مذہب عیسائی ہے تو وہ تین خدا کے قائل ہیں اور دیگر مذاہب میں بھی کئی کئی خداؤں کا تصور کیا جاتا ہے بعض میں ایک خدا کا تصور ہے لیکن وہ کچھ اور ہے ، سورج ہے یا آتش ہے یا کچھ اور ۔
معلوم ہوا کہ مذہب اور دھرم اطاعت خداوندی تعالی ہے ، اور چونکہ مذہب میں اصول اور قواعد ہوتے ہیں ،زندگی گزارنے اور عبادات و معاملات و عقوبات کا سلسلہ ہوتا ہیں ۔ اس لئے یہ انسان کے لیے ضروری بھی ہے اور عقل کا بھی یہی تقاضہ اور اس کے خلاف عقل کا کچھ فیصلہ نہیں ہوسکتا ۔
آج دنیا میں اور بین الاقوامی سطح پر قوانین ہیں ، اور ہر ملک اور سلطنت میں قوانین ہے ۔ کیونکہ بغیر قانون اور معمالات کے ملک و سلطنت نہیں چل سکتے ۔ یہی مذہب کا اصل مقصد ہے ۔
میں پوچھنا چاہتا ہوں دین بیزار اور مذہب بیزار عقل سے نابلد اور سطحی قسم کے ذہن رکھنے والے کم فہموں سے کہ آپ جس ملک میں رہتے ہیں اس کے اپنے قوانین ہے ۔ آپ قوانین کو تسلیم کیوں کرتے ہیں اور اس کے مطابق کیوں چلتے ہیں ؟ کیونکہ آپ مذہب کو مانتے نہیں اور آزادانہ خیال رکھتے ہیں ۔
کسی ملک کے قوانین کو تسلیم کرنا اور اس کے مطابق چلنا گویا آپ نے مذہب کو تسلیم کیا اور مذہب اختیار کرچکا ہے ۔ کیونکہ مذہب میں بھی یہی ہوتا ہے ۔ اس میں انسان کے لئے باضابطہ طور پر مکمل دستور حیات موجود ہوتی ہے ۔ چاہے کوئی بھی مذہب ہو، اس کے اپنے عبادات اور معاملات ہیں ۔
اور ملک کے قوانین تسلیم کرنا گویا آپ پابند تو ہوگئے ۔ مذہب کے معاملات سے جان چھڑا کر دوسرے معاملات کو تسلیم کرنا گویا بمحاورہ ٫٫ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا ٬٬ کے مترادف ہے
اور مذہب کے بغیر آپ کے لئے زندگی گزارنا نا صرف مشکل ہے بلکہ بمشکل اور انتہائی کٹن اور پر خطر کام ہے ۔ کیونکہ میں پوچھنا چاہتا ہوں میاں اور بیوی کے درمیان تعلقات کس طرح ہونا چاہیے ؟ مذہب آپ کو بتاتا ہے ۔ اگر آپ منکر مذہب ہے تو کس اصول پر آپ میاں اور بیوی کے تعلقات قائم رکھیں گے ؟
اگر مذہب کے مطابق رکھیں گے گویا آپ مذہب تسلیم کرلی ، اور اگر کوئی اور طریقہ اپنائیں گے تو وہ اصول اور طریقہ کس کا ہوگا اپنا یا کسی اور کا ؟ اگر اپنا ہوگا تو جو دوسرے کم فہم اور غبی قسم کے لوگ ہیں جو منکر مذہب ہیں ان کا کیا بنے گا وہ کس قانون سے اپنے معاملات طے کریں گے ؟ اگر دوسروں کے اصول پر معاملات طے کریں گے تو بات وہی ہے تو کسی کے پابند ہوگئے اور مذہب اختیار کرلئے ۔
اور اگر آپ کہے میں تو مکمل مذہب کے قانون پر عمل نہیں کیا ایک دو ضابطہ اسلام کا لیا اور ایک دو عیسائی مذہب سے اور کچھ یہاں سے کچھ وہاں سے ۔ تو پھر بھی جان چھڑا نہیں سکتے کیونکہ یہاں وہاں سے واپس قانون لے کر جو طریقہ اپنایا گویا یہ بھی مذہب بن گیا ۔ دوسرے آپ کے اپنے لوگ ان قوانین کے مطابق زندگی اگر گزاریں گے تو وہی آپ کی اطاعت ہوئی اور یہی مذہب کا نام ہے ۔
بات بہت طویل ہوئی ، ابھی تک اس موضوع پر بات نہیں ہوئی کہ مذہب کی ضرورت کیوں ہے ؟ ا س کی بہت سارے وجوہات ہیں ۔ ایک وجہ میں آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں کہ مذہب اگر نہ ہو تو معاملات اور عقوبات کا سلسلہ نہیں ہوگا ۔ اور یہ ایک بدیہی امر ہے کہ ہر ملک اور شہر میں امیر اور غریب ظالم اور مظلوم دونوں قسم کے لوگ رہتے ہیں ۔ اگر ظالم مظلوم پر کوئی ظلم کرے تو اس سے بدلہ کون لے گا اور اس کا انجام کیا ہوگا یہ سب مذہب بتاتا ہے ۔ اور بھی وجوہات ہے ان شاءاللہ موقع ملا تو تفصیل سے مذہب کے موضوع پر قلم کو حرکت دوں گا ۔
مضمون نگار : محمد عدنان لہڑی حنفی

Comments
Post a Comment
Warning ⚠️
Don't use bad words.