کیا طالبان نے خواتین سے تعلیم کا حق چھین رکھا ہے ؟
کیا طالبان نے خواتین سے تعلیم کا حق چھین رکھا ہے ؟
٫٫ کیا طالبان نے خواتین سے تعلیم کا حق چھین رکھا ہے ٬٬ اس جملہ ہو ہم سوالیہ انداز میں بطور سرخی پیش کیا ہے ، جب کہ نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی صاحبہ نے اس کا جواب مثبت انداز میں دی ہے ۔
گزشتہ روز رابطہ عالم اسلامی (Muslim word league ) کا ٫٫ مسلم معاشروں میں لڑکیوں کی تعلیم، مواقع اور چیلنجز٬٬ کے عنوان پر عالمی کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہوا ، جس میں عالمی شخصیات نے اپنے مافی الضمیر کا اظہار کیا ۔ اور اس کانفرنس میں ملالہ یوسفزئی صاحبہ نے بھی خطاب کی ، اور انہوں نے اپنی خطاب میں افغان لڑکیوں کی تعلیم کی بات بھی کی اور کہا کہ طالبان نے خواتین سے تعلیم کا حق چھین رکھا ہے اور وہ خواتین جو انسان نہیں سمجھتے ۔ اور دوسری جانب سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی صاحب بھی ان کو داد دیتے ہوئے یوں لب کشائی کرتے ہیں کہ ملالہ یوسفزئی تعلیم سے متعلق دنیا بھر کی لڑکیوں کےلیے رول ماڈل ہیں۔
جناب عالی ! تعلیم سے متعلق موصوفہ کو دنیا بھر کی لڑکیوں کے لئے رول ماڈل کا تمغہ امتیاز سے نوازنا اس وقت درست ہوگا جب دنیا بھر کی لڑکیوں کے لئے تعلیم سے متعلق کوئی کردار ادا کرے ، جب کہ ہم دیکھتے ہیں موصوفہ تو تعلیم سے متعلق خود لڑکیوں اور تعلیم۔سے وابستہ افراد کے مابین متنازع ہیں ، تو رول ماڈل چہ معنی دارد ۔
ملالہ صاحبہ نے پوری بات ہی نہیں کی ، جو انہیں کہنی چاہیے تھی کہ طالبان کس تعلیم سے روکتی ہے ؟ اور یہ ایک طویل داستان ہے ، جو گزشتہ سال افغانستان کے وزیر تعلیم نے یہ بیان دیا تھا اور خواتین کو یونیورسٹی اور کالجز سے روکا تھا ، اور پھر اس کی وجوہات بھی بیان کیا تھا ۔اور وہ سب اسلامی اور شریعت کے عین مطابق تھا ۔ طالبان خواتین کی تعلیم کے بالکل منکر نہیں ہیں اور نہ انہوں نے مطلق تعلیم نسواں کا انکار کیا ہے ۔ بلکہ انہوں نے غیر شرعی پالیسیاں روک دی ہیں ۔
اور شرعی ، پردہ میں رہ کر انہوں نے تعلیم کا حکم دیا ہے ۔
ملالہ صاحبہ کا تعلیم کی بات کررہی ہے ؟ وہ تعلیم جو ہمارے ہاں رائج ہے ؟ جس میں ہماری بہنوں کی ننگ و ناموس محفوظ نہیں .وہ تعلیم جس میں ہماری بہنوں کی ناموس کو تار تار کیا جائے ، وہ تعلیم جو بہاولپور کالجز میں ہورہی ہے ؟ وہ تعلیم جہاں اگر گرل گرینڈ نہ ہونا عار و عیب ہیں ، وہ تعلیم جہاں ہماری بہنوں کو بلیک میل کیا جائے ؟ اور ہاں وہ تعلیم جن کا استاد درندے ہو ؟
ایسی تعلیم تمہیں مبارک ہو ، جس کے تم قائل ہو ، ہمیں ہماری بہنوں کی عزت عزیز ہے ۔ طالبان اس تعلیم سے روکتی ہے ۔ باقی شرعی لحاظ سے اور اچھے ماحول میں تعلیم حاصل کرنا اس کے مخالف طالبان نہیں ہے ۔ اور نہ طالبان نے خواتین کی تعلیم کا حق چھینا ہے ۔
اگر آپ کی مراد وہ تعلیم ہے جو مغرب اور دیگر ممالک میں رائج ہیں بالخصوص پاکستان میں ، تو اس تعلیم سے جاہل رہنا ہزارہا درجہ بہتر ہے ۔ جس دن تمہاری بیٹی کی عزت سے کوئی درندہ کھیلے ، اس دن میں پوچھتا ہوں کونسی تعلیم بہتر ہے ، کونسی تعلیم سے روکنا چاہیے اور کس طرح تعلیم خواتین کو دینا چاہیے ۔

Comments
Post a Comment
Warning ⚠️
Don't use bad words.