کتاب ٫٫نشیب و فراز٬٬ اور ہمارا رویہ
کتاب ٫٫ نشیب و فراز ٬٬ اور ہمارا رویہ
ڈیڑھ سال قبل راقم الحروف کو اپنی کتابوں کے بیچ ایک کتاب پر نظر پڑی ، جو ٫٫نشیب و فراز٬٬ کے نام سے مسمی تھا ، جس کے سرورق پر مؤلف مولانا اسماعیل الحسنی لکھا تھا ۔
میں بذات خود مولانا اسماعیل الحسنی صاحب کا صرف نام سنا ہوں اور میڈیا پر دیکھا ہوں ۔ ملاقات اب تک نہیں ہوئی ۔ موصوف نے ایک حساس موضوع پر قلم کو حرکت دی ہے ، لیکن جہاں تک حقائق سے پردہ چاک اور نقاب پوشی کی ہے ، یہ موصوف کی محنت اور وسعت مطالعہ پر دال ہے ۔
موصوف اپنے دعوے میں حق بجانب ہے یا نہیں ، اس وقت اگر راقم فیصلہ کرےگا تو ظاہر ہے یہ جانبدار اور یکطرفہ فیصلہ ہوگا اور خلاف اصول اور شرع ہوگا ۔ کیونکہ اب تک اس کتاب کا جواب نہیں آیا ہے ، تاکہ ہم فریقین کے دلائل کا جائزہ لے اور فیصلہ کر سکے کس کا پلڑہ بھاری ہے ۔
لیکن دوسری جانب میں جب کتاب کو دیکھا جو تقریبا دلائل اور مواد سے بھرپور مزین ہے اور اپنے ہر دعوے پر دلائل دئیے ہیں ۔ اس لئے اس کو جھٹلایا نہیں جاسکتا ۔
مگر جب میں اس کتاب کو مطالعہ کیلئے اپنے پاس رکھا تھا تو کچھ ہمسفر یہ کہہ کر اس کو جھٹلاتے کہ یہ سب جھوٹ بولا ہے ، اپنی طرف سے باتیں کی ہے ، اور اِدھر اُدھر کی باتیں ، اور قیل و قال کا طرز اپنایا ہے ۔
یہ جھوٹ ہے ، ہوائی باتیں ہیں ، وغیرہ اس قسم کے باتیں کسی بات کی جواب نہیں ، اور نہ یہ اصول ہے ۔ اور میری ناقص رائے کے مطابق یہ مشرکین مکہ کی عادت تھی ، جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ دلائل کے بجائے ساحر اور کاذب کہہ کر جان چھڑاتے ، یا پھر یہود کا طرز عمل ہے جو جانتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہے اور آخری رسول ہے ۔ اتنے جانتے تھے جیسے اپنے بیٹوں کو ، ان کو اتنا یقین تھا جیسے اپنے بیٹوں پر ان کو یقین ہے کہ یہ میرا بیٹا ہے ۔ لیکن انکار صرف بغض و عناد کی وجہ سے تھا ۔
یہاں بھی یہی طریقہ ہے ، یا تو حقائق سچ ہے بغض اور عناد کی وجہ سے انکار ہے ۔ یا دلائل کا جواب جھوٹ اور کذب کہہ کر جان چھڑانا ہے ۔
اصول یہ ہے کہ اگر کسی کتاب میں کسی پر کوئی الزام یا ان کی طرف کوئی ایسی بات کی نسبت کی گئی ہو جس کا صدور ان سے نہیں ہوا ہے ، تو اصولی طور پر وہ وضاحت دینے کا حق بجانب اور ضروری ہوتا ہے ۔ تاکہ ان کے ہمنوا اور متبعین شکوک و شبہات کا شکار نہ ہو ۔ خود راقم نے اپنے اکابر کے دفاع میں کسی مسلک کے بزرگ رہنماء کی کتاب کا جواب لکھا ، تو چند عرصہ بعد فریق مخالف کی طرف سے اس کا جواب دوبارہ دیا گیا ، تو ظاہر ہے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کتاب کس کی ہے اور لکھی کس نے ، بلکہ شکوک و شبہات سے بچنے کے لئے جواب دیا جاتا ہے ۔
یہاں بھی یہی طریقہ صحیح ہوگا ۔ لیکن اب تک دو سال مکمل ہونے کو ہے یا ہوچکے ہیں اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔ جس سے ظاہر ہے قاری یہی سمجھے گا کہ مؤلف موصوف نے کتاب میں جن باتوں کی نشاندھی کی ہے اور حقائق پیش کیا ہے وہ حق ہے اور صحیح ہے ۔ جب تک جواب نہیں آتا ۔
لہذا ہمیں اپنا رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ، اور بجائے باتوں کے دلائل کا مقابلہ دلائل کے میدان میں کیا جائے نہ کہ ایک جملہ میں ساری کتاب کا جواب دیا جائے ۔
رہی بات ٫٫ نشیب و فراز ٬٬ کی ، کہ کس موضوع پر لکھی گئی ہے ، تو یہ ایک طویل داستان ہے جو کتاب ہی میں دیکھا جاسکتا ہے ۔
محمد عدنان لہڑی حنفی

Comments
Post a Comment
Warning ⚠️
Don't use bad words.