محترموں اور جانوروں کا سال اور مفتی زرولی خان صاحب کے قول کی حقیقت

 محترموں اور جانوروں کا سال اور مفتی زرولی خان صاحب کے قول کی حقیقت


2024 کے اواخر سے لیکر اب تک آج 2025 کے پہلا دن ہے ۔ اطراف سے ایک قول ہر ایک کی زبان زد ہے جس کی نسبت بحرالعلوم حضرت مفتی زرولی خان صاحب رحمہ اللہ کی جانب کیا جارہا ہے ، مذکورہ قول یہ ہے کہ :

٫٫ جنوری سے جانوروں کا سال شروع ہوتا ہے اور محرم سے محترموں کا ٬٬ 


اولا :  نہ جانے یہ قول حضرت مفتی صاحب کے ہے کہ نہیں ، ابھی تک کسی نے کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کی ، تقریبا عوام کالانعام مکھی پہ مکھی مارے جارہے ہیں ، ایک نے پھیلا دیا تو اب دوسرے بھی بغیر کسی وجہ اور تحقیق آگے پھیلا رہے ہیں ۔ جس کی ممانعت قرآن مجید میں موجود ہے اور سختی سے ایسی حرکت سے منع کیا گیا ہے۔ 

اور مفتی صاحب نے یہ بات کب اور کہا کہی ہے کس کے سامنے اب تک یہ منظر عام پر نہیں ہے ۔ 


بالفرض اگر تسلیم کرلیا جائے کہ مفتی صاحب نے ایسا کہا ہے تو بھی کسی نجی محفل اور مجلس میں بطور طنز اور مزاح کے کہا ہوگا جیسے کے عموما علماء کرام کرتے ہیں ۔ لہذا اس کو بطور حجت خصم پر پیش کرنا درست ہی نہیں ۔ اور نہ اس کی وجہ سے کسی مسلمان کو تنقید کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے ۔


ثانیا : ایسے جملے پھیلانا ہی مناسب نہیں ، کیونکہ اگر جنوری سے جانوروں کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو اس قضیہ میں تو تمام وہ حضرات شامل ہے جن کا مہینہ جنوری سے شروع ہوتا ہے ۔ اور یہ بات اظہر ہے کہ جو لوگ یہ بات پھیلا رہے ہیں ان کا بھی تو مہینہ جنوری سے شروع ہوتا ہے ۔ اگر شروع نہیں ہوتا وہ اس بات کو جنوری اور ابتداء سال میں پھیلاتے نہیں ۔ جب مخصوص دنوں میں اس کو پھیلا رہے ہے تو معلوم ہوا ان حضرات کا 2025 بھی جنوری سے شروع ہوا ۔ ورنہ وہ اس بات کو محرم میں پھیلاتے نہ کہ جنوری میں ۔ 


ثالثاً : اگر تسلیم کرلیا جائے یہ قول صحیح ہے اور بطور طنز اور مزاح کے نہیں کہا ہے تو لازم آئے گا کہ جنوری کا انکار ہی کیا جائے اور اس میں قمری سال کا اعتبار ہی ختم ۔ اور جو لوگ اس کو تسلیم کرتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ وہ 2025 کا انکار ہی کردے اور آئندہ وہ اس تاریخ کو کہی لکھے ہی نہیں اور نہ اپنی شناختی کارڈز اور دیگر اشیاء میں اس کا استعمال کرے ۔ 


رابعا : اگر یہ قضیہ تسلیم کرلیا جائے تو وہ تمام حضرات اس قضیہ میں آئیں گے جو اس قول کو پھیلا رہے ۔ کیونکہ 2025 کی آغاز میں ان کا یہ قول پھیلانا اس بات پر دال ہے کہ ان کے نزدیک 2024 ختم ہوا ہے اور 2025 شروع ہوا ہے ۔ تبھی اس قول کو عام کررہے ہیں ۔ ورنہ ابتداء جنوری اور 2025 کے شروع میں اس کو عام کرنا چہ معنی دارد ۔۔۔ 


آخر میں قرآن کی اس آیت پر یہ بات ختم کرتا ہوں ، جسے ہر ذی فہم کو اسے اپنی زندگی کا اصول بنانا چاہیے اور عمل کرنا چاہیے ۔ کیونکہ قرآن مکمل ضابطہ اور دستور حیات ہے ۔ 

(یا ایھا الذین آمنو ان جائکم فاسق بنبا فتبینوا ) الحجرات آیت 6 

اے ایمان والوں اگر کوئی فاسق آپ کے پاس خبر کے آئے پس اس کی تحقیق کرو ۔ 


 کالم نگار : محمد عدنان حنفی


Comments

Popular posts from this blog

پاک و افغان جنگ میں مرکزی کردار کس کا؟ مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے ؟

ڈاکومنٹری کا جواب یا گلوخلاصی ؟