عورت کا تقدس اسلام اور مغرب میں
عورت کا تقدس اسلام اور مغرب میں
قانون قدرت کے مطابق اس زمین کی آبادی مرد و عورت سے ہے۔ اگر ایک نہ ہو تو یہ کا ئنات نہ ہوتی (وبث فيها رجالاً کثیرا) اس جوڑے سے بہت بڑی تعداد پھیل گئی ۔ صرف مرد یا صرف عورت سے یہ نظام قائم نہیں رہ سکتا اور بڑے سے بڑا آدمی سوا حضرت آدم علیہ السلام کے سب انبیاء اس عورت سے جنے گئے ۔ عورت کا تقدس کون نہیں مانتا ۔ جو لوگ اسلام کے متعلق ترمیم کے قائل ہیں۔ مصر میں ایک کتاب لکھی گئی ہے۔ المکارمات۔ اس کتاب میں لکھا گیا ہے کہ رومن لاء یعنی اٹلی ، فرانس ۔ اور انگلینڈ وغیرہ کا قانون۔ جو یورپ کی زندگی کا مدار رہا ہے۔ وہ یہ ہے کہ عورت کسی کی وارث نہیں ہو سکتی ۔ گویا یورپ کے قانون نے عورت کو وراثت سے محروم کر دیا ۔ گائے اور بھینس کی طرح کہ جس طرح مرنے کے بعد حیوان کو وراثت کا حق نہیں اسی طرح عورت کو بھی وراثت کا حق نہیں ۔ تو رومن لاء میں یہ ہے کہ عورت کوئی چیز خرید یا فروخت نہیں کر سکتی اور جو چیز کمائے وہ خاوند کی ملکیت ہے۔ یہ یقینی بات ہے کہ یہ چیزیں صرف حیوان نہیں کر سکتا۔ رومن اور قانون کی عجیب چیز یہ دیکھو کہ اسلام میں تو دلہا ، دلہن کی حق المہر ادا کرتا ہے مگر اس رومن لاء میں دلہن کے ورثاء ، دلہا کو حق المہر ادا کریں گے ۔
۱۹۱۴ء میں ایک کا نفرنس کی گئی کہ عورت میں جان یعنی روح ہے یا نہیں۔ کانفرنس نے اس بات کا فیصلہ کیا کہ عورت میں روح ہے۔ یا تو یہ جذبات تھے یا جذبات اس حد تک آئے کہ عورت کو مرد سے بھی بلند مقام دے دیا ۔ بیوی کو انگریز مرد اپنے آگے چلائیں گے۔ خاوند کی کل آمدنی بیوی کے اختیار میں ۔ اور عورت ہر قسم کی پابندی سے آزاد ہے۔ جس قوم کا نسائی قوانین کے متعلق آئینہ یہ ہو کہ وہ اسلام پر کیا اعتراض کر سکتے ہیں یورپ جب لغزش کھاتا ہے تو پھر اسلام کا قانون لے لیتا ہے۔
مورخین لکھتے ہیں کہ اس وقت دنیا میں ۲۲ ویں تہذیب چل رہی ہے اور سابقہ ۲۱ تہذیبیں
عورت کی وجہ سے برباد ہوئی ہیں۔

Comments
Post a Comment
Warning ⚠️
Don't use bad words.