مسئلہ بلوچستان اور عبدالغفور حیدری صاحب کا بیان
مسئلہ بلوچستان اور عبدالغفور حیدری صاحب کا بیان
بلوچستان اس وقت باغیچہ اطفال بن چکا ہیں ، ایک متنازع زمین کی طرح یہاں کئی نسلوں کا مختلف قسم کے دعوے پائے جاتے ہیں ، نسل پرستی،شخصیت پرستی ،جھوٹ،فراڈ،جنونیت،جذباتیت،دھوکے بازی،برین واشنگ، افراط و تفریط، سازش،مکاریاں ، دنیا جہاں کے امراض یہاں پائے جاتے ہیں ۔ اور سب سے بڑی بات مذہب کو ایک کھیل ، تماشہ بنایا گیا ہیں ، مذہب کے نام پر کوئی کسی کو خاموش کرانے کی کوشش کرتا ہے، تو کوئی کسی کو ظالم کا تمغہ امتیاز دیتا ہے ، کسی کو شخصیت پرستی کا طعنہ دے کر خاموش کیا جاتا ہے ، ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم پیش کیا جاتا ہے ۔ غرض بہت کچھ مذہب کے نام پر کیا جاتا ہے ۔
گزشتہ روز مولانا عبدالغفور حیدری صاحب کا بیان میڈیا پر آیا جس میں صاحب کہتے ہیں کہ بلوچستان کے معدنی وسائل و ذخائر پر مجھ سمیت یہاں رہنے والے لوگوں کا حق ہیں ۔
واہ ! کمال کی بات کی ہے حضرت نے خود اپنے آپ کو مشکوک اور مبہم بنادیا ، جملہ (مجھ سمیت) شکیہ اور مبہم جملہ ہے ، مجھ سمیت کا جملہ موصوف نے کیوں اختیار کیا ۔ چونکہ یہ ایک مبہم اور شکیہ جملہ ہے لہذا اس کے ابہام کو ختم کرنا یہ ایک ضروری امر ہے ۔
مجھے ابہام ختم کرنے میں کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی اور نہ میں اس میں کوئی عار سمجھتا ہوں ، کیونکہ حضرت حیدری صاحب ہمارے طبقے کا ایک فرد ہے یعنی علماء کے طبقے سے ، اور میرا تعلق بھی دینی مذھبی گھرانے سے ہیں اور میں خود اسی طبقے سے تعلق رکھتا ہوں ، اور لطف کی بات یہ ہے کہ ہماری قومیت بھی ایک ہیں ، دونوں کا تعلق ایک ہی قوم سے ہیں ،لیکن حق کو بیان کرنا ، حقائق کو حقائق کہنا ، حقیقت کو بیان کرنا یہ ہم ہر ضروری ہے ، اگر ہم بیان نہیں کریں تو خائنین میں ہمارا شمار ہوگا ۔ حق ، حق ہوتا ہے اور جھوٹ ، جھوٹ ۔ کسی کے دباؤ سے میں حق کو بیان کرنے سے بھی نہیں ڈرتا ، اور نہ کسی کے ایماء پر جھوٹ اور حقیقت کو چھپانے سے ڈرتا ہوں ۔
حقیقت پیش کرنے سے قبل میں حضرت کے مبہم و شکیہ جملہ (مجھ سمیت ) سے ابہام کو دور کرتا ہوں ۔ یہ بات دل ہے اس بات پر کہ حضرت کو اس بات میں شک ہے کہ کیا میں بلوچستان کے وسائل و ذخائر کا حق دار ہوں کہ نہیں ، اور گویا حضرت کو جواب مل چکا ہے کہ آپ کا بلوچستان کے وسائل و ذخائر پر کوئی حق نہیں ، جس کے جواب میں حضرت نے یہ جملہ اختیار کرکے اپنا حق جمانے کی کوشش کیا ہے ۔
بات صاف اور حقیقت ہے کہ موصوف کا بلوچستان پر کوئی حق نہیں ، کیونکہ اسمبلی کا ممبر عوام کی جانب سے اس لئے بنایا گیا ہے آپ کو کہ آپ بلوچستان اور اس کے عوام کے لئے کچھ کرے ، لیکن موصوف کی کار کردگی بلوچستان میں کیا ہے ؟ کوئی آکر ان کی کارکردگی بیان کرے کہ انہوں نے کچھ کیا ہے ، باوجود یکہ سینٹ چیئرمین بھی رہ چکا ہے ۔ کوئی اس بات سے ہمیں ورغلانے کی کوشش نہ کرے وہ تو دین و اسلام اور مدارس کی جنگ لڑ رہا ہے اور اس میں وہ کردار ادا کررہا ہے، جناب والا یہ تسلی بخش جملہ اپنے پاس رکھے اس سے کسی اور کو بے وقوف بنائے ، حقائق کے سامنے ایسے طفلانہ جملہ کچھ کار آمد نہیں ۔ اس سے پھر ایک نئی موضوع کھل جاتا ہے اور میں اس موضوع کی طرف جانا نہیں چاہتا بجز اس کے کہنے کے کہ اگر دینی مدارس اور علماء کی بات ہے ، موصوف کی اس سے متعلق کیا کردار ہے وہ بھی ہمارے سامنے ہیں ، مزید پھر یہ کہنے کی کیا ضرورت کہ بلوچستان کے وسائل و ذخائر پر مجھ سمیت وہاں کے رہنے والوں کا حق ہیں ، اگر مدارس و علماء کی جنگ لڑ رہا ہے تو وسائل و ذخائر کا موضوع پھر چھوڑ دے باقی لیڈروں کے لئے کیونکہ آپ کا موضوع یہ نہیں۔
تو میں عرض کررہا تھا کہ حضرت بلوچستان سے جیت کر کبھی بلوچستان کے حقوق کی جنگ نہیں لڑی ہے ، کرنا تو دور کی بات کبھی بلوچستان کے مسائل حل کرنے میں پیش پیش نہیں ہوئے ہیں ، بلوچستان سے جیت کر آپ قومی اسمبلی کے ممبربنتے ہیں ایک وعدہ کرکے جاتے ہیں لیکن مہینے میں کبھی بلوچستان کا چکر لگاتے ہیں ؟ کبھی نہیں الا ماشاءاللہ اگر کبھی دو مہینے بعد اگر کسی جلسہ میں شرکت کیلئے آئے ، وہ بھی جلسہ یا کسی کی تعزیت یا کسی نواب و میر سے ملنے کیلئے ۔ مسائل بلوچستان کے لئے نہیں ۔
میں پوچھنا چاہتا ہوں جس حلقے سے حضرت جیت چکا ہے ، اس حلقے کے عوام کے لئے کیا کیا ہے؟ اس شہر کے مکینوں کے لئے کیا کیا ہے ؟ اس شہر کا حال کیسا ہے ؟ میں شہر کی بات کررہا ہوں اس لئے کیونکہ جہاں سے جیتا ہے وہاں کے رہنے والوں کا زیادہ حق ہے حضرت پر ۔ حق تو پورے بلوچستان کا ہے جو وہ ادا نہیں کررہا ، کم از کم جس شہر کے مکین آپ کو کہی پہنچایا ہے کسی مقصد کے لئے وہ تو پورا کرے ۔
گزشتہ الیکشن میں حضرت نے بیان دیا کہ قلات کی عوام کے شدید اصرار پر میں وہاں سے الیکشن لڑوں گا ، آپ عوام کس کو کہتے ہیں ؟ اکثریت یا اقلیت ظاہر ہے اکثریت۔ جناب نے محض ایک شوشہ چھوڑ دیا مگر عوام کی اصرار کچھ نہیں تھا ماسوائے کچھ پیش پیش رہنے والوں کے ۔
میں کہتا ہوں پاکستان کے وہ سیاست دان یا لیڈر اچھے ہیں جو خود استمعال تو ہوتے ہیں لیکن کچھ کرنے کی ہمت بھی رکھتے ہیں اور کرتے ہیں ، لیکن کچھ لوگ وہ ہیں جو استعمال تو ہوتے ہیں اپنوں سے اور غیروں سے لیکن کچھ کرنے کی ہمت بھی نہیں رکھتے ، یہ سب سے کمتر قسم کے انسان اور مجبور محض ہوتے ہیں ۔

Comments
Post a Comment
Warning ⚠️
Don't use bad words.