رمضان المبارک کی ابتداء علماء کرام کے خون سے

 رمضان المبارک کی ابتدا علماء کرام کے خون سے 

آج بروز ہفتہ 1 مارچ 2025 ؁ء مطابق 1رمضان المبارک 1446ھ کا دن ہے ، گزشتہ کل 28 فروری بروز جمعہ اکوڑہ خٹک ضلع نوشہرہ دارالعلوم حقانیہ میں ایک المناک واقعہ پیش آیا ۔ نماز جمعہ کے بعد ایک خودکش حملہ آور کےدھماکے سے شہید مولانا سمیع الحق  ؒ کے جانشین اور جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا حامد الحق سمیت کئی لوگ شہید ہوئے ۔ 

مولانا حامد الحق  ؒ شہید مولانا سمیع الحق کےفرزندارجمند ہے جسے 2 نومبر 2018 ؁ء راولپنڈی میں انتہائی بے دردی اور ظلمانہ شہید کیا گیا ،وہ اپنے کمرے میں آرام کررہے تھے اور ان کا محافظ اور ڈرائیور گھر سے باہر تھے ، اس دوران سفاک قاتل دیوار پھلانگ کر مولانا سمیع الحق  ؒ پر بے دردی سے چھریوں کے ساتھ حملہ کیا اور پھر گولی مار کر شہید کیا ۔ 81 سالہ اس بزرگ اور سفید ریش پر اس انداز میں چھریاں چلائی کہ دل خون کے آنسو روتا ہے ۔ مگر جب ہم میدان کربلا کے اس تاریخ پر نظر ڈالتے ہے جہاں نواسہ رسول ﷺ کو انتہائی بے دردی سے شہید کیا جاتا ہے ، تو ان کے وارثین پر یہ فعل بعید از قیاس نہیں ۔

مولانا حامد الحق شہید ؒ ایک سیاست دان اور اسلامی اسکالر تھے ، جنہوں نے 2002 سے 2007 تک قومی اسمبلی کے رکن رہے ہیں ۔ اور والد بزرگوار کی شہادت کے بعد جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات سر انجام دے رہے تھے ۔

پاکستان میں علماء کرام کو انتہائی بے دردی سے شہید کیا جاتا ہے ۔ یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی کئی جید علماء کرام کو انتہائی بے دردانہ انداز میں شہید کیا گیا ہے ، لیکن بندے کی سوچ یہاں آکر رک جاتا ہے کہ ایسے کاروائیاں صرف پاکستان میں کیوں ؟ جبکہ میں اس پر بات نہیں کرتا کہ  پاکستان ایک اسلامی ملک ہے ، اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ، بلکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ علماء کرام صرف اس ملک میںشہید کئے جاتے ہیں ؟ اور پھر علماء کرام میں بھی ایک خاص طبقے کے علماء کرام کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے ! 

جبکہ علماء کرام دوسرے ممالک میں بھی موجود ہے ، آج تک ایسا ظالمانہ کاروائی تو پیش نہیں آئی، پاکستان میں یہ سب کچھ کیوں ہوتے ہیں ؟ اور میں صرف علماء کرام کی بات بھی نہیں کرتا بلکہ دیگر عوامی لیڈر ہو یا کوئی ٹارگٹ کلنگ کا یہ سلسلہ اس ملک میں ایک امر تکرار بن گیا ہے ، اس کو مارو فلاں کو الزام دو ، اُس کو مارو فلاں کو الزام دو ۔

میں پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ یہ مارنا کیوں پیش آتا ہے ، کیا یہاں سیکورٹی کا انتظام نہیں ؟ کیا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ سے کنڑول نہیں ہوپاتا ؟ کیا آپ خود کو کمزور تصور کرنے لگے ہیں ؟ نہیں جی دعوے تو ماشاءاللہ آسمان کو چھوتا ہے ، باتیں تو ایسے جیسے جناب والا اس ملک میں مکہ مکرمہ سے زیادہ امن ہے ، لیکن باتیں کچھ اور ہے اور کاروائیاں کچھ اور ہے ، ظاہر ہے یہ کہانی کچھ اور ہے ۔ 

یہاں ہمیں دو متضاد باتیں ملتےہیں ، ایک یہ کہ پاکستانی اداروں کا یہ کہنا کہ ہماری فوج اور ادارے دنیا میں اپنا سکہ جمایا ہے اور بڑے بڑے ملکوں کے فوج سے زیادہ تیز ہے ۔ لیکن دوسری جانب ایسی کاروئیاں اس ملک میں ۔ یقینا ان میں ایک بات تو درست ہوگی، اور وہ یہ کہ اگر شق اول کو تسلیم کیا جائے تو لازم آئے گا کہ ایسے کاروائی کرنے والوں کا پاکستانی اداروں کو علم ہوگا ، اور اگر شق اول کی نفی کیا جائے تو جھوٹ اور دھوکہ لازم آئے گا اور پاکستانی اداروں کا یہ بلند بانگ دعوے محض ایک افسانہ اور طفل تسلی ہے ۔ 

آمدم برسر مطلب اب اصل بات کی طرف آتا ہوں کہ مولانا حامد الحق شہیدؒ کے اصل قاتل کون ہوسکتا ہے ؟ کوئی کہتا ہے خارجی ہے تو کوئی کہتا ہے کوئی بےایمان ہے اور ان سب کے دلیل تو ظاہر ہے یہی ہے کہ کوئی مسلمان مسجد میں علماء کرام کو شہید کیوں کرے گا ؟ اور مسلمانوں کو مسجد میں کیوں مارے گا ۔

لیکن یہ بات در اصل ایک مفروضہ ہے جسے ہر ٹارگٹ کلنگ کے بعد بناکر عوام کے ذہن میں ڈالا جاتا ہے اور پھر جناب والا مذمت کا ایک لمبی قطار لگ جاتا ہے اور تعزیتی پیغام وصول ہوتے ہیں اور لوگ تعزیت کے لئے آتے جاتے ہیں پھر کچھ دن بعد یہ معاملہ خاندان کے حوالے کرکے ہمیشہ کے لئے یہ بوجھ ان کے سر رکھ دیا جاتا ہے ۔ بس یہ سلسلہ چل رہا ہے لیکن حقیقت اور گہرائی میں کسی نے غور نہیں کیا ، کہ ہمیشہ یہ سلسلہ کیوں پیش آتا ہے ۔یہ بات ہم اس وقت کسی حد تک مان لیتے جب کبھی یہ واقعہ پیش آتا اور معاملہ کو رفع دفع کرکے ختم کرتے ۔ لیکن یہاں تو ہر دوسرے مہینہ یا سال کوئی نہ کوئی ایسے  واقعہ پیش آتا ہے ۔

بات صاف ہے اگر ہمیں قاتل کو ڈھونڈنا ہے تو ہم دیکھے کہ مولانا حامد الحق شہید ؒ کے نظریات اور افکار کے مخالف کون ہے؟ کیونکہ دشمن اپنے مخالف کو خود جانتا ہے کہ یہ بندہ میرے راستے میں رکاوٹ بنے گا اس کو پہلے راستے سے ہٹانا چاہیے ۔ اس لئے وہ کوشش کرتا ہے پہلے اس کو ہٹاتا ہے ۔ ہمیں کسی پر انگلی نہیں اٹھانا چاہیے کہ قاتل وہ ہے ، یہ ہے ، فلاں نے ذمہ داری قبول کرلی ، فلاں نے ایسا کہا ۔ نہیں نہیں ، کیونکہ یہ سب باتیںمقصود اصلی سے توجہ ہٹانے کے لئے کیا جاتا ہے ، اور قاتل کو درمیان سے راہ ملتا ہے نکلنے کو  ۔ 

مولانا سمیع الحق شہید ؒ کو کس نے قتل کیا ، اور قاتل کون ہے اور کون کون شریک ہے ، یہ اہل حقائق سے ڈھکی چھپی بات نہیں ، خود قاتل کا قتل اور جرم بتاتا ہے کہ میں کون ہوں اور میں کس کے ساتھ ملا ہوں اور یہ منصوبہ مجھے کس نے سونپا ہے ۔اور کس لئے یہ منصوبہ بنایا گیا ہے ۔

محمد عدنان حنفی 

Comments

Popular posts from this blog

پاک و افغان جنگ میں مرکزی کردار کس کا؟ مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے ؟

ڈاکومنٹری کا جواب یا گلوخلاصی ؟