ڈرامہ سیریز ’’معاویہ ‘‘ کی حقیقت اور مذمت اور اسلامی تاریخ پر مبنی ڈرامے سیریزبنانے کی وجوہات

 ڈرامہ سیریز ’’معاویہ ‘‘ کی حقیقت اور مذمت اور اسلامی تاریخ پر مبنی ڈرامے سیریزبنانے کی وجوہات 

گزشتہ تین دن سے عرب میڈیا پر ایک ڈرامہ سیریز دکھانے کی خبریں چل رہے ہیں ، اور عرب میڈیا اس بات کی تصدیق کرچکا ہے کہ ’’معاویہ ‘‘سیریز سعودی عرب کے ٹیلی ویژن چینل ایم بی سی (MBC) پر رمضان المبارک میں نشر کیا جائے گا ۔ 

لیکن دوسری جانب عراق نے اسے فرقہ وارانہ عمل کہہ کر اس پر پابندی عائد کی ہے ، جو ایک احسن عمل ہے  ۔اورساتھ ساتھ جامعۃ الازہر مصر اور وہاں کے علماء کرام کی جانب سے بھی اس کی مخالفت کیا گیا ہے ۔

اس ڈرامے کی حقیقت بیان کرنےسے قبل مناسب ہوگا کہ حضرت امیر معاویہ ؓ بن ابی سفیان کا مختصر تعارف قارئین کے سامنے بیان کیا جائے۔

حضرت امیر معاویہ ؓ بن ابی سفیان:

حضرت امیر معاویہ ؓ مشہور صحابی رسول ﷺاور کاتب وحی ہے ۔ آپؓ کو اللہ تعالی نے بہت سی خوبیوں سے نوازا تھا ، آپ کے اندر لڑکپن ہی سے ایسے علامات پائے جاتے تھے کہ جس سے لوگ آپ کو کسرائے عرب کہتے تھے ۔ آبؓ انتہائی دانا ، خوش تدبیر اور اعتدال پسند تھے ، حضورﷺ نے آپ کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ عرب کے کسریٰ ہے ۔امام شعبی ؒ کا قول ہے کہ عاقلان عرب چار ہے : معاویہ بن ابی سفیان ، عمرو بن العاص، مغیرہ بن شعبہ ، اور زیادہ ۔

حضرت امیر معاویہؓ اعلانِ نبوت سے ۸ سال پہلے مکہ میںپیدا ہوئے۔ آپ صلح حدیبیہ کے دن ۷ھ میں اِسلام لائے مگر مکہ مکرمہ والوں کے جبر و استداد و ظلم و ستم سے اپنا اِسلام چھپائے رکھا پھر فتح مکہ مکرمہ کے دن اپنا اِسلام ظاہر کیا۔حضرت امیر معاویہ   ۲۲رجب المرجب  ۶۰ہجری میں ۷۸سال کی عمر میں لقوہ کی بیماری سے فوت ہوئے۔ حضرت امیر معاویہؓ کے پاس رسولِ کریم ؐکے چند مقدس تبرکات تھے۔ یعنی چادرِ اَقدس‘ ناخن شریف‘ قمیض مبارک‘ ازار شریف اور موئے مبارک۔ اور آپ کی وصیت کے مطابق ان چیزوں میں آپ کو کفن دیا گیا اور موئے مبارک اور ناخن شریف اعضائے سجوداور آنکھوں نتھوں پر رکھ دیئے گئے۔

ڈرامہ کی حقیقت:

اس ڈرامے کو دوسال قبل 2023ء میں شروع کیا گیا تھا ، اور تیونس (جس کا اصل نام تونس ہے ، مگر اردو میں انگریزی کی وجہ سے تیونس کہا جاتا ہے) میں ،جو ایک اسلامی ملک ہے ، فلمایا گیا ۔اور عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً 100ملین ڈالر اس پر خرچہ آیا ہے ۔

اور اس کا رائٹر مصری صحافی خالد صلاح ہے ، اور دو دن قبل موصوف نے اپنے انسٹگرام سے اس ڈرامہ کا پوسٹر شائع کیا ہے ۔ اور ہدایت کار فلسطینی نژاد امریکی فلمساز طارق العریان نے کی ہے ۔اور کردار ادا کرنے کے لئے فلسطینی اداکار علی سلیمان نے جب انکار کیا تو شامی اداکار لوجین اسماعیل نے اس کردار کو نبھانے کا ذمہ اٹھایا ۔

مذمت :

اس ڈرامہ سیزیز کی انتائی زور و شور سے مذمت کرنی چاہیے ، کیونکہ اگر آج اس پر خاموشی اور سکوت کا مظاہرہ کیا گیا ،تو مستقبل میں اور بھی ایسے سیریز دیکھنے کو ملے گا ، اس لئے اگر مذمت کیا جائے اور عوام کو دوری کی تلقین کیا جائے تو ان شاء اللہ جب ڈرامہ کو اہمیت نہیں ملے گی اور اس کے ناظرین کم ہوں گے تو شاید وہ دوبارہ ایسے قدم نہ اٹھائیں ، کیونکہ اس کی کامیابی عوام کے دیکھنے پر ہے ، اگر عوام دیکھے گا تو ان کے ناظرین بڑھ جائیں گے اور مستقبل میں یہی لوگ کوئی اور قدم اٹھائیں گے ۔

یہ مذمت نہ صرف اسلامی نقطہ نظر کو دیکھ کر کرنا چاہیے بلکہ اخلاقی ، ذہنی اور قانونی طور پر بھی اس کی مذمت کرنا چاہیے اور یہ سیریز نہ صرف مخالف شرع ہے بلکہ قانونی اور اخلاقی اعتبار سے بھی انتہائی مضر ہے ۔ کیونکہ ہر وہ چیز جس سے ملک اور عوام کو نقصان پہنچے اور عوام میں یا امت مسلمہ مین انتشار کا باعث بنیں اور نوبت جنگ و قتال تک پہنچے کا ذریعہ بنے اور کسی مذہب کے مقدسات کی توہین لازم آئے ، یا کسی مذہب کے خاص افراد کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے ، تو وہ کام اور عمل کسی ملک میں قانونا جرم ہے اور شرعاً اور اخلاقا بھی ۔ اس لئے اس سیریز میں صحابہ کرام ؓ کے مشاجرات اور ان میں کسی کو کم اور کسی کو زیادہ دکھانے کی کوشش کیا گیا ہے تو اس سے انتشار اور فتنہ  بڑھے گا ۔ لہذا عراق کی طرح دیگر عرب ممالک میں بھی اگر نشر کی کوشش کیا گیا تو اس پر پابندی عائد کرنا اس ملک پر ضروری ہے ،جیسے مصر اور عراق کے علماء کرام نے اس کی شدید مذمت کی ہے ایسا ہی دوسرے عرب ممالک کے علماء کرام پر بھی لازم ہے کہ وہ عوام کو اس سے دور رکھنے کا درس دے ۔

اسلامی تاریخ پر مبنی ڈرامے بنانے کی وجوہات:

آجکل اسلامی تاریخ پر مبنی ڈرامے سیریز ریلیز ہوتے جارہے ہیں ، اس سے پہلے بھی کئی تاریخی کرداروں کے کردار کو ڈرامے کی صورت میں پیش کرنے کی کوشش کیا گیا ہے ، جیسے حضرت حسینؓ کی زندگی پر بنی ویڈیوز ہے ، مزید پیغمبروں کی زندگی پر بھی بنائی گئی ہے ، لیکن نہ جانے وہ بنانے والے مسلم ہے یا کوئی اور ، بہر حال اس کے بعد صحابہ یا تابعین یا فاتحین اسلام اور اسلامی سلاطین کی زندگی اور مسلمانوں کے ماضی پر بنائی گئی جو سیریز ہیں وہ مسلمانوں نے بنایا ہیں اورمسلم ممالک میں ان کو فلمایا گیا ہے اور مزید بنارہے ہیں۔ ہم اس کی وجوہات پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں گے ۔

(۱) پہلی اور بنیادی وجہ میرے خیال اور ناقص رائے کے مطابق یہ ہے کہ اس کی وجہ ترکی ڈرامہ ارطغرل ڈرامہ سیریز ہے ، جسے اسلامی ممالک اور اس کے ساتھ  غیر مسلم ممالک میں انتہائی پذیرائی حاصل ہوئی ، اور انگلش ، عربی ، اردو سمیت کئی زبانوں میں اس کا ترجمہ پیش کیا گیا ہیں ۔ اور دنیا بھر میں سینکڑوںافراد نے اسے پسند کیا ہے ۔ اور کئی ممالک میں سرکاری طور پر ٹیلی ویژن چینلز پر چلایا گیا ہے ۔یہ ڈرامہ سلطنت عثمانیہ کی تاریخ پر بنی ہے جو اسلامی تاریخ میں سب سے آخری سلطنت اور خلافت ہے اور ساتھ ساتھ سب سے بڑی سلطنت اور خلافت بھی ہے  ، جہاں ایک ہی خاندان کے ۳۰ سے زائد افراد نے سلطان اعظم کے منصب کو سنبھالا ۔ اور یہ سیریز اب تک کورولش عثمان کے نام سے چل رہا ہے ، جسے دنیا بھر میں دیکھا جاتا ہے ۔

اس سیریز کی مقبولیت عامہ کو دیکھ کر دیگر ممالک کے کرداروں اور رائٹرز نے بھی اسلامی تاریخ پر سیریز بنانے کا سوچا ، جس کا حال آپ کے سامنے ہے ، اب حضرت امیر معاویہ ؓ کی زندگی پر یہ سیریز بنایاگیا ، اگر اس پر مسلم ممالک اور مسلم قوم نے خاموشی اختیار کی تو شاید مستقبل میں دیگر اصحاب ؓ اور صحابیاتؓ کی زندگی پر بھی سیریز بنایا جائے۔ 

(۲) دوسری وجہ چونکہ حضرت امیر معاویہ کے بارے میں جھوٹی روایات تاریخ میں موجود ہے ، جس کی بناء پر بعض لوگوں نے حضرت امیر معاویہؓ کی شخصیت کو متنازع بنانے کی کوشش کی، اور ڈرامے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسرائیل نے اس کا خیر مقدم کیا ہے ، جس سے صاف ظاہر ہے کہ ڈرامے میں یا حضرت امیر معاویہ کے بارے میں جھوٹی خامیاں دکھایا گیا ہے یا پھر حضرت علیؓ کو اس کے مقابلے میں کم دکھایا گیا ہے ، جس سے شیعہ سنی اختلاف کو اجاگر کرنے کی سازش ہے ۔

(۳) تیسری وجہ یہ ہے چونکہ اسلامی تاریخ کے مشہور شخصیات کی تاریخ اکثر صحیح اور درست ثابت ہے ، اور پھر اس کا تعلق مذہب سے ہے اور ظاہر ہے مذہبی چیزوں کو لوگ اہمیت دیتے ہیں اور عوام نے یہ سمجھ کر ڈرامے دیکھنا شروع کیا کہ شاید یہ اسلامی تاریخ پر مبنی ہے تو ان کا دیکھنا اچھا ہے ۔ جب عوام کا رجحان ان جیسے ڈراموں کی طرف ہوا تو اب ڈرامہ نگار بھی انہیں چیزوں پر لکھنا شروع کیا ۔

کالم نگار : محمد عدنان جاوید حنفی

Comments

Popular posts from this blog

پاک و افغان جنگ میں مرکزی کردار کس کا؟ مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے ؟

ڈاکومنٹری کا جواب یا گلوخلاصی ؟