Posts

کیا طالبان نے خواتین سے تعلیم کا حق چھین رکھا ہے ؟

Image
 کیا طالبان نے خواتین سے تعلیم کا حق چھین رکھا ہے ؟ ٫٫ کیا طالبان نے خواتین سے تعلیم کا حق چھین رکھا ہے ٬٬ اس جملہ ہو ہم سوالیہ انداز میں بطور سرخی پیش کیا ہے ، جب کہ نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی صاحبہ نے اس کا جواب مثبت انداز میں دی ہے ۔  گزشتہ روز رابطہ عالم اسلامی (Muslim word league ) کا ٫٫ مسلم معاشروں میں لڑکیوں کی تعلیم، مواقع اور چیلنجز٬٬ کے عنوان پر عالمی کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہوا ، جس میں عالمی شخصیات نے اپنے مافی الضمیر کا اظہار کیا ۔ اور اس کانفرنس میں ملالہ یوسفزئی صاحبہ نے بھی خطاب کی ، اور انہوں نے اپنی خطاب میں افغان لڑکیوں کی تعلیم کی بات بھی کی اور کہا کہ طالبان نے خواتین سے تعلیم کا حق چھین رکھا ہے اور وہ خواتین جو انسان نہیں سمجھتے ۔ اور دوسری جانب سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی صاحب بھی ان کو داد دیتے ہوئے یوں لب کشائی کرتے ہیں کہ ملالہ یوسفزئی تعلیم سے متعلق دنیا بھر کی لڑکیوں کےلیے رول ماڈل ہیں۔ جناب عالی ! تعلیم سے متعلق موصوفہ کو دنیا بھر کی لڑکیوں کے لئے رول ماڈل کا تمغہ امتیاز سے نوازنا اس وقت درست ہوگا جب دنیا بھر کی لڑکیوں کے لئے تعلیم سے ...

کتاب ٫٫نشیب و فراز٬٬ اور ہمارا رویہ

Image
کتاب ٫٫ نشیب و فراز ٬٬ اور ہمارا رویہ  ڈیڑھ سال قبل راقم الحروف کو اپنی کتابوں کے بیچ ایک کتاب پر نظر پڑی ، جو ٫٫نشیب و فراز٬٬ کے نام سے مسمی تھا ، جس کے سرورق پر مؤلف مولانا اسماعیل الحسنی لکھا تھا ۔ میں بذات خود مولانا اسماعیل الحسنی صاحب کا صرف نام سنا ہوں اور میڈیا پر دیکھا ہوں ۔ ملاقات اب تک نہیں ہوئی ۔ موصوف نے ایک حساس موضوع پر قلم کو حرکت دی ہے ، لیکن جہاں تک حقائق سے پردہ چاک اور نقاب پوشی کی ہے ، یہ موصوف کی محنت اور وسعت مطالعہ پر دال ہے ۔ موصوف اپنے دعوے میں حق بجانب ہے یا نہیں ، اس وقت اگر راقم فیصلہ کرےگا تو ظاہر ہے یہ جانبدار اور یکطرفہ فیصلہ ہوگا اور خلاف اصول اور شرع ہوگا ۔ کیونکہ اب تک اس کتاب کا جواب نہیں آیا ہے ، تاکہ ہم فریقین کے دلائل کا جائزہ لے اور فیصلہ کر سکے کس کا پلڑہ بھاری ہے ۔  لیکن دوسری جانب میں جب کتاب کو دیکھا جو تقریبا دلائل اور مواد سے بھرپور مزین ہے اور اپنے ہر دعوے پر دلائل دئیے ہیں ۔ اس لئے اس کو جھٹلایا نہیں جاسکتا ۔  مگر جب میں اس کتاب کو مطالعہ کیلئے اپنے پاس رکھا تھا تو کچھ ہمسفر یہ کہہ کر اس کو جھٹلاتے کہ یہ سب جھوٹ بولا ہے ، اپ...

مذہب اور دھرم کی ضرورت کیوں ہے ؟

Image
مذہب اور دھرم کی ضرورت کیوں ہے ؟ آغاز سال میں ایک ملحد کو یہ کہتے ہوے سنا کہ نئے سال کے شروع میں ایک بار پھر خود سے یہ وعدہ کرتا ہوں کہ اس سال بھی بہت سے لوگوں کے مذہب اور دھرم کی قید سے رہائی کا سبب بنوں گا ۔ کہتے ہے کہ انسان کو اگر آوارہ چھوڑ دوں گے تو وہ خراب اور اوباش بنے گا ، اور اگر میاں بیوی کو وقت نہ دے تو بیگم صاحبہ کہی اور وقت گزارنے کی کوشش کرتا ہے اور اگر بیگم شوہر کو ٹائم نہ دے ، تو ظاہر ہے شوہر اپنے لئے ایسی شریک حیات تلاش کرے گا جو اس کی تسکین کا باعث بنے ۔  اگر مذہب اور دھرم کی قید کو ختم کیا جائے تو میں پوچھنا چاہتا ہوں ملحدین سے کہ اپنے بیٹے کی تربیت کیوں کرتے ہو ؟ بیٹا جب پیدا ہوا اور 5 سال بعد اس کو بس ویسے چھوڑ دو اپنے قید میں کیوں رکھا ہے ؟ کیونکہ تم تو آزاد پسند ہو اور قید کی رہائی کو برداشت نہیں کرتے ۔ جیسے تم بیٹے کی پرورش کرتے ہو اور آہستہ آہستہ اس کو بڑھا کر علم و آداب سکھاتے ہو ۔ اسی طرح مذہب اور دھرم سکھاتا ہے ۔ جس سے تم بیزاری اختیار کر چکے ہو ، جو در اصل بیزاری نہیں بلکہ مذہب کو اختیار تم نے بھی کیا ہے لیکن اتنے عقل پر پردہ پڑ چکا ہے کہ اتنا نہیں سمج...

میں ایسے خدا کو کیوں مانو جو بچے کا پیٹ نہ بھرے اور جنت کے خواب دکھائے ؟

Image
میں ایسے خدا کو کیوں مانو جو بچے کا پیٹ نہ بھرے اور جنت کے خواب دکھائے ؟ آج ایک ملحد کو یہ کہتے سنا جو کہہ رہا ہے کہ میں ایسے خدا کو کیوں مانو جو آج ایک بچے کا پیٹ نہ بھرے اور کل جنت کے خواب دکھائے ۔  آپ خدا کو مانے یا مانے ، ہمیں اس سے کیا لینا دینا ، ہمیں حکم ہے توحید کو بیان کرنا ، اور لوگوں کو سمجھانا ، اگر کوئی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ سمجھ سکتا ہے کہ خداوند تعالیٰ بچے کے پیٹ نہیں بھرتا اور جنت کے خواب دکھاتا ہے ، جو در حقیقت خواب نہیں حقیقت ہے ، اور ملحد اس حقیقت کو نہیں دیکھتے تو اس میں خداوند تعالی اور ہمارا کوئی قصور نہیں ۔  گرنہ بیند روزِ روشن شپرہ  چشم چشمہء آفتاب را چہ گُناہ ملحدین کی نگاہ بمثل چشم چمکادڑ ہے ، نگاہ ان کی اپنی کمزور ہے اور الزام غیروں کو دیتے ہیں ، یہ سوال در حقیقت من جملہ اس بات کو بھی شامل ہے کہ خداوند تعالی آج کسی غریب یا بھوکے کو کھانا نہیں دیتا بھوکے رکھتا ہے اور جنت کے خواب دکھاتا ہے ، ایسے بے معنی اور احمقانہ باتیں سوائے ملحدین جن کے عقل و فہم میں کج روی ہے اور کوئی نہیں کرتا ۔  میں پوچھتا ہوں کہ آپ خداوند تعالی کے عدم وجود کا...

عورت کا تقدس اسلام اور مغرب میں

Image
 عورت کا تقدس اسلام اور مغرب میں  قانون قدرت کے مطابق اس زمین کی آبادی مرد و عورت سے ہے۔ اگر ایک نہ ہو تو یہ کا ئنات نہ ہوتی (وبث فيها رجالاً کثیرا) اس جوڑے سے بہت بڑی تعداد پھیل گئی ۔ صرف مرد یا صرف عورت سے یہ نظام قائم نہیں رہ سکتا اور بڑے سے بڑا آدمی سوا حضرت آدم علیہ السلام کے سب انبیاء اس عورت سے جنے گئے ۔ عورت کا تقدس کون نہیں مانتا ۔ جو لوگ اسلام کے متعلق ترمیم کے قائل ہیں۔ مصر میں ایک کتاب لکھی گئی ہے۔ المکارمات۔ اس کتاب میں لکھا گیا ہے کہ رومن لاء یعنی اٹلی ، فرانس ۔ اور انگلینڈ وغیرہ کا قانون۔ جو یورپ کی زندگی کا مدار رہا ہے۔ وہ یہ ہے کہ عورت کسی کی وارث نہیں ہو سکتی ۔ گویا یورپ کے قانون نے عورت کو وراثت سے محروم کر دیا ۔ گائے اور بھینس کی طرح کہ جس طرح مرنے کے بعد حیوان کو وراثت کا حق نہیں اسی طرح عورت کو بھی وراثت کا حق نہیں ۔ تو رومن لاء میں یہ ہے کہ عورت کوئی چیز خرید یا فروخت نہیں کر سکتی اور جو چیز کمائے وہ خاوند کی ملکیت ہے۔ یہ یقینی بات ہے کہ یہ چیزیں صرف حیوان نہیں کر سکتا۔ رومن اور قانون کی عجیب چیز یہ دیکھو کہ اسلام میں تو دلہا ، دلہن کی حق المہر ادا کرتا ...

محترموں اور جانوروں کا سال اور مفتی زرولی خان صاحب کے قول کی حقیقت

Image
 محترموں اور جانوروں کا سال اور مفتی زرولی خان صاحب کے قول کی حقیقت 2024 کے اواخر سے لیکر اب تک آج 2025 کے پہلا دن ہے ۔ اطراف سے ایک قول ہر ایک کی زبان زد ہے جس کی نسبت بحرالعلوم حضرت مفتی زرولی خان صاحب رحمہ اللہ کی جانب کیا جارہا ہے ، مذکورہ قول یہ ہے کہ : ٫٫ جنوری سے جانوروں کا سال شروع ہوتا ہے اور محرم سے محترموں کا ٬٬  اولا :  نہ جانے یہ قول حضرت مفتی صاحب کے ہے کہ نہیں ، ابھی تک کسی نے کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کی ، تقریبا عوام کالانعام مکھی پہ مکھی مارے جارہے ہیں ، ایک نے پھیلا دیا تو اب دوسرے بھی بغیر کسی وجہ اور تحقیق آگے پھیلا رہے ہیں ۔ جس کی ممانعت قرآن مجید میں موجود ہے اور سختی سے ایسی حرکت سے منع کیا گیا ہے۔  اور مفتی صاحب نے یہ بات کب اور کہا کہی ہے کس کے سامنے اب تک یہ منظر عام پر نہیں ہے ۔  بالفرض اگر تسلیم کرلیا جائے کہ مفتی صاحب نے ایسا کہا ہے تو بھی کسی نجی محفل اور مجلس میں بطور طنز اور مزاح کے کہا ہوگا جیسے کے عموما علماء کرام کرتے ہیں ۔ لہذا اس کو بطور حجت خصم پر پیش کرنا درست ہی نہیں ۔ اور نہ اس کی وجہ سے کسی مسلمان کو تنقید کا نشانہ بن...

ایک اور اینٹ گر گئی دیوار حیات سے

Image
ایک اور اینٹ گرگئی دیوارِ حیات سے  رات کی آدھی پہر میں اس وقت ٹائم گیارہ بج کر پچپن منٹ (11:55) ہورہا ہے  ۔ اور اپنی تحریر کی آغاز دسمبر کی آخری دن 2024 سے کیا ہوں ، اور تقریبا جنوری کے پہلے دن 2025 میں اس کا اختتام کروں ۔  اور پانچ منٹ کے بعد لوگ خوشیاں منائیں گے ، اور نیا سال کی مبارکی ایک دوسرے کو دیں گے ، لوگوں سے معافیاں مانگیں گے، اور کیا کچھ نہیں ہوتا ۔ عقل مند اور اہل فہم آدمی وہ ہے جو گزرے ہوئے ایام سے کچھ سیکھے ۔ اگر وہ ٹھوکر کھایا ہو ،اور کہی پسل گیا ہو، اور آئندہ ایسی غلطیاں اور کمزوریاں دہرانے کی ہمت نہ کرے ۔  کیونکہ مرور ایام سے انسان بہت کچھ سیکھتا ہے ۔ جب انسان چوٹا ہوتا ہے تو ایام کے پھیرنے سے اس کو کچھ اندازہ نہیں ہوتا ۔ اور ایام کے گزرنے کے ساتھ ساتھ جب بڑا ہوتا جائے گا اور عمر میں تبدیلی ہوتی جائے گی ، تو ساتھ ساتھ اس کا عقل پختہ اور مضبوط ہوتا جاتا ہے ۔ کیونکہ وہ ان ایام سے کچھ سیکھتا ہے ۔ اور ان پر ان ایام میں ایسی حالات آئے ہیں جن کو وہ دوسری مرتبہ دہرانے کی ہمت نہیں کرتا ۔ اور بے وقوف اور احمق انسان وہ محض مرور ایام ہو دیکھتا رہتا ہے اور ان کے...